.

کرد تنظیم کے ساتھ جھڑپ میں سات ایرانی فوجی ہلاک

واقعہ عراق اور ایران کی سرحد پر پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:


ایران میں سرگرم علاحدگی پسند ایک کرد عسکریت پسند گروپ نے ایک جھڑپ میں سات ایرانی فوجیوں کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی کردستان پارٹی کی بغل بچہ تنظیم 'کردستان لائف فریڈم پارٹی' [بیجاک] کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تازہ جھڑپ ایران اور عراق کے درمیان ایک سرحدی علاقے میں ہوئی، جس میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

"بیجاک" کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوجیوں اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ ایک ہفتہ قبل سرحدی قصبے"سردشت" میں ہوئی تھی۔ جھڑپ میں پہل ایرانی فوجیوں نے فائرنگ سے کی جس کے جواب میں بیجاک کے جنگجوؤں نے جوابی کارروائی کر کے 'دشمن' کے سات فوجی ہلاک کر دیے ہیں۔

خیال رہے کہ"بیجاک" عسکری تنظیم کے جنگجو ایران، عراق اور ترکی کے درمیان سنگلاخ پہاڑوں میں اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔ تہران اور بعض دوسرے ممالک نے تنظیم کو"دہشت گرد" گروپ قرار دے رکھا ہے تاہم "بیجاک" کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں کردوں کے حقوق کے لیے جنگ لڑ رہی ہے۔

ایرانی فوجیوں اور بیجاک کے درمیان تازہ جھڑپ کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں اور نہ ہی ایرانی حکام کی جانب سے ہلاکتوں کے دعوے کی تصدیق یا تردید کی گئی ہے۔ تاہم فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ' اے ایف پی' کا کہنا ہے کہ اپریل سنہ 2012ء کے بعد یہ اس علاقے میں اپنی نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔

گذشتہ برس موسم گرما میں ایران کی طاقتور فوج پاسداران انقلاب نے "بیجاک" کے جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔ چند روز تک جاری رہنے والے اس آپریشن کے بعد پاسداران انقلاب نے بیجاک کے 180 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔