.

شام میں شکست امریکا کی منتظر ہے: بشار الاسد

"امریکا کو شام میں ایک اور ویتنام سے مقابلہ کرنا ہو گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد نے شام پرممکنہ امریکی حملے کے خلاف پیشگی انتباہ کیا ہے کہ حملے کی صورت میں امریکا کا ایک دوسرے ویتنام سے پالا پڑے گا۔ بشار الاسد کی یہ دھمکی ایک انٹرویو کی صورت روسی میڈیا کے ذریعے اس وقت سامنے آئی ہے جب 21 اگست کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد امریکا اور مغربی ممالک بطور خاص شام کو مزہ چکھانے کی تیاری کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

بشارالاسد نے کہا "شام میں شکست امریکا کی منتظر ہے، جیسا کہ ماضی کی تمام جنگوں میں ہو چکا ہے۔" شامی صدر نے زور دے کر کہا ویت نام سے آج تک امریکا کو شکست کا سامنا رہا ہے۔

انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ شامی افواج نے دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ انہوں نے استفہامیہ انداز میں کہا،" کیا کوئی ایسا ملک ہو سکتا ہے جواپنی افواج کے کسی جگہ اجتماع یا موجودگی کے باوجود وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کرے، کیا یہ الزام منطقی ہو سکتا ہے؟ اس لیے اس چیز کو بہانہ بنا کر امریکا نے شام پر حملہ کیا تو امریکا کو شکست ہو گی۔"

شامی صدر کے عامی سطح پر سب سے طاقتور اتحادی اور اسلحہ فراہم کرنے والے ملک روس کا کہنا ہے کہ ''ہو سکتا غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال باغیوں کیا ہو۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق "اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیرشام میں فوجی مداخلت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گی۔"