اڑھائی سال بعد زین العابدین بن علی کی تصویر منظر عام پر

سابق تیونسی رہنما جنوری2011 سے سعودیہ میں جلاوطنی کاٹ رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

تقریبا اڑھائی سال سے زیادہ عرصہ تک پس پردہ رہنے والے تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی پہلی بار ایک تصویری جھلک سوشل میڈیا انسٹا گرام پر نظر آَئی ہے۔ تصویر میں وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے محمد کے ساتھ خوشگوار میں بیٹھے ہیں۔ انسٹا گرام پر تصویر سامنے آنے کے فوری بعد انسٹا گرام پر پرائیویٹ کا سائن آ گیا۔

زین العابدین بن علی جنہیں 2011 میں عوامی تحریک کے باعث اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا ، وہ چودہ جنوری 2011 سے سعودی عرب کے مہمان ہیں اور چپ چاپ جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ سعودی عرب نے انہیں اپنے ہاں خوش آمدید کہتے ہوئے ان سے یہ توقع کی تھی کہ وہ میڈیا سے بات نہیں کریں گے اور سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ زین العابدین تب سے اب تک اس شرط پر کاربند ہیں۔ اس حوالے سے ان کی تصویر کا سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

سابق تیونسی صدر کے بارے عام طور پر کہا جا رہا تھا وہ ان دنوں سخت علیل ہیں۔ البتہ اس مسکراتی اور خوشگوار ماحول کی عکاس تصویر سے پہلے سے موجود افواہ کی تردید ہوتی ہے۔ وہ اپنی رہائش گاہ پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ خوش و خرم ہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں