ایران:1953ء میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے پر امریکا کے خلاف بل منظور

ایرانی حکومت امریکا کے خلاف کسی عالمی عدالت میں قانونی چارہ جوئی کرسکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پارلیمان نے ملک کے جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم ڈاکٹر محمد مصدق کا 1953ء میں تختہ الٹنے کے الزام میں امریکا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے بل کی منظوری دے دی ہے۔

امریکا نے ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اپنے وفادار شاہ ایران کی مدد کی تھی اور اس کے خلاف عالمی فورمز پر قانونی چارہ جوئی کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری تھی۔

منظور کردہ بل کے تحت ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے گی جو اس تمام معاملے کا جائزہ لینے کے بعد چھے ماہ کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی اور وہ اس کی روشنی میں امریکی حکومت کے خلاف کسی عالمی عدالت سے قانونی چارہ جوئی کے لیے رجوع کرے گی۔

بدھ کو ایرانی پارلیمان کے اجلاس میں شریک 196 اراکین میں سے 167 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ پانچ نے اس کی مخالفت کی ہے۔ پارلیمان کے اجلاس کی کارروائی سرکاری ریڈیو سے براہ راست نشر کی جارہی تھی۔

واضح رہے کہ حال ہی میں منظرعام پر آنے والی امریکا کی خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے ساٹھ برس قبل ایران وزیراعظم محمد مصدق اور ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کی تھی۔

ایران میں منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مطلق العنان شاہ محمد رضا پہلوی کے اقتدار کو بحال کردیا گیا تھا۔ انھیں امام خمینی کی قیادت میں انقلابیوں نے 1979ء میں اقتدار سے نکال باہر کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی ایران پر امریکا کے اثرورسوخ کا بھی خاتمہ ہوگیا تھا۔

اس انقلاب کے چند ماہ کے بعد ہی ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات منقطع ہوگئے تھے اور یہ تینتیس سال کے بعد بھی بحال نہیں ہوئے ہیں بلکہ اب دونوں ممالک میں جوہری تنازعے اور ایران کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کے معاملے پر شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں