سعودی مذہبی پولیس کے خلاف مالی بدعنوانیوں کے الزامات

محکمہ انسداد بدعنوانی میں مذہبی پولیس کے خلاف بے ضابطگیوں پر درخواست دائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی مذہبی پولیس (امر بالمعروف و نہی عن المنکر کمیشن) کو مالی بدعنوانیوں اور بدانتظامی کے الزامات پر تنقید کا سامنا ہے اور اس کے خلاف ان الزامات کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے۔

سعودی عرب کے قومی انسداد بدعنوانی کمیشن کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ انھیں مذہبی پولیس میں بدعنوانیوں اور ضابطے کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

مذہبی پولیس نے جو خلاف ورزیاں کی ہیں، ان میں سے ایک دارالحکومت ریاض میں شاہ فہد روڈ پر واقع ایک ٹاور کو کرائے پر لینے سے متعلق ایک رئیل اسٹیٹ فرم سے معاہدہ ہے۔

اس معاہدے کے تحت اس ٹاور کو مبینہ طور پر ایک کروڑ اٹھہتر لاکھ ریال پر کرائے پر لیا گیا ہے حالانکہ اسی عمارت کو اس سے پہلے سعودی عرب کی وزارت ہاؤسنگ نے ڈیڑھ کروڑ ریال کرائے پر لے رکھا تھا۔

اس درخواست میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ کمیشن کے ایک عہدے دار نے آٹھ لاکھ ریال قرضہ وصول کیا تھا۔ اس میں سے چار لاکھ کی رقم ''انٹلیکچوئل سکیورٹی ٹریننگ پروگرام'' کے لیے مختص کی گئی تھی۔

سعودی روزنامے عکاظ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی اس تربیتی پروگرام کا اہتمام کرنے کی ذمے دار تھی اور قرضہ وصول کرنے والے کمیشن کے عہدے دار کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کمیشن کے ترجمان ترکی آل شلیل نے ان تمام الزامات کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد مذہبی اتھارٹی کی حیثیت اور شہرت کو داغدار کرنا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کمیشن کا جنرل سیکرٹریٹ غلط رپورٹس پھیلانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ کمیشن کے سربراہ شیخ عبداللطیف الشیخ کا عہدہ حکومتی وزیر کے برابر ہے اور وہ براہ راست شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو جوابدہ ہیں۔ کمیشن کے ملازمین کی تعداد چار ہزار کے لگ بھگ ہے۔ وہ بازاروں میں اور شاہراہوں پر گشت کرکے لوگوں کے کردار پر نظر رکھنے کے ذمے دار ہیں اور وہ اسلامی شریعت کے منافی کردار کے حامل افراد کو گرفتار کرکے سزائیں دلا سکتے ہیں۔

2013ء کے بجٹ میں کمیشن کے لیے انتالیس کروڑ ڈالرز کی رقم مختص کی گئی تھی۔ اس طرح اس کے لیے رقم میں 2012ء کے بجٹ کے مقابلے میں 35فی صد اضافہ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں