شام میں عراق جیسی کارروائی نہیں ہو گی: ڈیوڈ کیمرون

بتا دینا چاہتے ہیں کہ آج کی دنیا میں کیمیائی ہتھیاروں کی گنجائش نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کیمیائی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے والوں کو ہمیشہ کے لیے ایک سخت پیغام دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شام کے خلاف محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ سنجیدہ کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم ان کے خیال میں یہ کارروائی عراق پر حملے کی طرح نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا ہے '' ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی آج کی دنیا میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔''

اپنے تازہ بیان میں کیمرون نے کہا '' اگر ہم نے سنجیدہ کارروائی نہ کی تو ہم ایک خطرناک مثال قائم کریں گے اور جابر قسم کے آمروں کو یہ سمجھنے کا موقع ہو گا کہ مسقبل میں اس سے بھی وسیع پیمانے پر کیمیائی ہتھیار بنا ئے جا سکتے ہیں۔ ہم جو سوچ رہے ہیں وہ شام میں رجیم کی تبدیلی نہیں، ہم شام میں جاری خانہ جنگی کو کسی نہ کسی طریقے سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔''

انوں نے کہا ''اس وقت جن امور پر غور جاری ہے وہ یہ ہیں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مسلے سے نمٹنے کا قانونی طریقہ کیا ہو سکتا ہے، کس حد تک جایا جا سکتا ہے اور کس طرح کی کارروائی حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتی ہے ۔''

برطانوی وزیر اعظم نے کہا شام کا جھگڑا سیاسی طریقے سے ہی طے ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے ڈیوڈ کیمرون کے ترجمان کا کہنا تھا ،، برطانوی افواج شام میں حادثاتی اور اتفاقی صورتحال سے نمٹنے کے منصوبے کی تیاری کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں