سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد لٹک گئی

یو این معائنہ کاروں کی رپورٹ سے پہلے قرارداد کا جواز نہیں: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے پیش کردہ قرارداد روسی مخالفت کے باعث آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔ روس نے سلامتی کونسل میں برطانیہ کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کو قبل از قت قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ سامنے نہیں آتی اس قرار داد پر بحث نہ کی جائے۔

دوسری جانب عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ نمائندے الاحضر الابراہیمی نے بھی اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر بین الاقوامی افواج کے کسی بھی ملک پر حملے کی حمایت نہیں کی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میری حرف نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ '' کسی بھی بامعنی مشورے اور اقدام کی روس کی جانب سے متواتر مخالفت کی وجہ سے آگے بڑھنے کی کوئی بھی سبیل نظر نہیں آتی ہے۔'' واضح رہے کہ 21 اگست کو شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد مغربی طاقتیں شام پر حملے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ شام کو سبق سکھایا جا سکے۔ اسی مقصد کے لیے بدھ کو سلامتی کونسل میں قرار داد لائی گئی۔

میری حرف نے زور دے کر کہا ''امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے کے ہر ممکن منصوبوں کو زیر غور لائے گا، تاکہ شامی حکومت کی حرکتوں کا جواب دیا جا سکے۔''

امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ''ہم کیمیائی ہتھیاروں کا جواب دینے کے سلسلے میں خود کو روسی ہٹ دھرمی کے ساتھ باندھ کر نہیں رکھ سکتے اور شرح صدر سے سمجھتے ہیں کہ شام کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔ شام اپنے آپ کو اب روسی ہٹ دھرمی کے پیچھے چھپا نہیں سکتا۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں