شامی بحران کا سیاسی حل ہی بہتر ہوگا: فرانسیسی صدر

فرانس کا موقف تبدیل، فوجی حملے کا مقصد شامی رجیم کو محض سزا دینا نہیں ہونا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی صدر نے شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اس ضمن میں ہر ممکن اقدام کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے یہ بات پیرس میں جمعرات کو شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ احمدالجربا سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ فرانسو اولاند حال ہی میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی پر زور دیتے رہے ہیں لیکن اب انھوں نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ''سیاسی حل اسی وقت روبہ عمل ہوسکے گا اگر عالمی برادری شام میں ہلاکتوں کو روکے اور شامی حزب اختلاف کی بہتر انداز میں مدد کرے''۔

فرانسیسی صدر کا یہ بیان شامی قومی اتحاد کے سربراہ کی توقع کے بھی برعکس ہے۔ احمد جربا نے فرانسیسی روزنامے پیرسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فرانسیسی صدر پر زور دیں گے کہ وہ دیگر مغربی ممالک کے ساتھ مل کر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیں اور ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

شام سے متعلق فرانس کے موقف میں تبدیلی کا اشارہ حکومت کی ترجمان کے بیان سے بھی ملتا ہے۔ خاتون ترجمان نجات ولود بلکاجیم نے فرانس 2 ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کا اسد رجیم کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کے جواب میں کارروائی کا منصوبہ بمشکل روبہ عمل ہوتا نظر آرہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ضرورت اس امر کی ہے مختلف اتحادیوں اور شراکت داروں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اکٹھے کیا جائے اور ہم وہاں ایسا ہی کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن روس اور چین جیسے ممالک وہاں کئی ایک مسائل کھڑے کررہے ہیں''۔

فرانسیسی حکومت کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ''اس فوجی کارروائی کا مقصد محض شامی رجیم کو سزا دینا اور اس کو اس طرح کے کسی نئے حملے سے روکنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا مقصد بحران سے نکلنا بھی ہونا چاہیے۔ عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اگر مداخلت کرتی ہے تو وہ اس انداز میں یہ اقدام کرے کہ اس سے شام بحران سے نکل سکے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں