مشرق وسطی میں بلٹ پروف گاڑِیوں کی ضرورت بڑھ گئی

شام، جنگ کی صورت میں ڈیڑھ ہزار گاڑیوں کی کھپت کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کے وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل، عراق، لیبیا اور شام میں برسوں پر پھیلی بدامنی نے مشرق وسطی کے ان ممالک میں بھی بلٹ پروف گاڑیوں کی ضرورت بڑھا دی ہے جن میں حالات پرامن ہیں۔ مجموعی طور پر پچھلے تین برسوں کے دوران عرب ممالک میں بلٹ پروف گاڑیوں کی کھپت 15 فیصد بڑھنے کے نتیجے میں عرب ملکوں کے لیے امریکی و جاپانی کمپنیاں اوسطاً سالانہ تین ہزار گاڑیاں تیار کر رہی ہیں۔ شام میں جنگی حالات میں اضافے کی صورت میں بلٹ پروف گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے کاروبار میں اضافے کی ایک نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

عرب ملکوں میں انتہائی قیمتی بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال کی بدولت گاڑیاں بنانے والی غیر ملکی کمپنیوں کی چاندی ہو گئی ہے اور وہ پرامید ہیں کہ مشرق وسطی کے موجودہ حالات کی وجہ آئندہ کئی برسوں تک انکا یہ کاروبار خوب چمکے گا۔ بلٹ پروف گاڑی بنانے والی ایک کمپنی کے نائب صدر جیسن فارسٹون نے "العربیہ" کو بتایا کہ اگر خاندان میں سے کوئی ایک شخص حفاظتی خدشات کے پیش نظر بلٹ پروف گاڑی خریدتا ہے تو بعد ازاں تمام خاندان بلٹ پروف گاڑی کی ضرورت محسوس کرنے لگتا ہے۔

بلٹ پروف گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کا خیال ہے کہ مشرق وسطی کے ہمسائے ممالک افغانستان، ایران اور پاکستان کے علاوہ بد امنی کا شکار بعض افریقی ملکوں میں بھی بلٹ پروف گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی کھپت کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

لبنان میں بلٹ پروف گاڑیاں بنانے والی غیر ملکی کمپنی "یکا گروپ" کے انتظامی سربراہ نے بتایا کہ عرب ممالک کی حکومتوں اور حکومتی شخصیات کےلیے 3000 بلٹ پروف گاڑیاں سالانہ کی مد میں تیار کی جاتی ہیں جبکہ عام خریداروں کےلیے سالانہ اوسطاً 300 گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں جو"یکا گروپ" کا 10 فیصد ہے۔

آرمڈ گاڑیوں کے ماہر عواد کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فروخت کے سلسلے میں سب اہم موقع حالت جنگ کے بعد کی صورتحال ہوتی ہے۔ جیسا کہ یہ تجربہ لیبیا، عراق میں سامنے آ چکا ہے۔ عواد کے مطابق اگر شام میں جاری صورتحال میں عراق جیسے جنگی حالات پیدا ہو گئے تو صرف شام میں بھی ایک ہزار سے پندرہ سو تک گاڑیاں بکنے کا امکان ہو گا۔

جیسن فارسٹوں نے مشرقی وسطی میں گاڑیوں کی ضرورت اور استعمال کے حوالے سے کہا کہ عرب خطے میں کاروباری دولتمند حضرات کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ انہیں اغواء برائے تاوان اور پیسوں کی لالچ میں مارنے جیسے جرائم کا سامنا رہتا ہے جس وجہ سے یہ عام گاڑیوں کی نسبت بلٹ پروف گاڑیوں کو خریدنے پر مجبور ہیں۔

عام طور پر بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے والے دولتمند خواتین و حضرات کی طرف سے 6 سینٹی میٹر موٹے بلٹ پروف شیشے، بلیسٹک سٹیل اور کیولر سے تیار کی گئی گاڑیوں کی خواہش ظاہر کی جاتی ہے۔

بلٹ پروف گاڑیوں کی خصوصیات بتاتے ہوئے عواد نے کہا کہ حفاظت کے انتہائی کم درجے پر تیار کی گئی بلٹ پروف گاڑیوں میں پستول اور عام بندوق سے فائر کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ ایسی گاڑیاں وسطی اور جنوبی امریکا میں استعمال کی جاتی ہیں جہاں شوٹنگ جیسے واقعات معمول کی بات ہے۔

عواد نے بتایا کہ مشرق وسطی میں فروخت ہونے والی 80 فیصد بلٹ پروف گاڑیاں حفاظت کے اعلی معیار کو مدنظر رکھ کر تیار کی جاتی ہیں جو آہنی اسلحے اے ۔کے 47 اور ایم 16 جیسی رائفلوں کو برداشت کر سکتی ہے۔ ان گاڑیوں کے سامنے 12 کلووزنی آتش گیر مواد پھٹنے کے باوجود گاڑی پر سوار حضرات محفوظ رہ سکتے ہیں.

جیسن فارسٹون نے کہا کہ اگر ایک دولتمند آدمی اپنی حفاظت پر کچھ حقیر رقم خرچ نہیں کرتا تو یہ ایک احمقانہ بات ہے۔ اگر ایک شخص کی آمدنی دس لاکھ ڈالر ہے تو وہ دو لاکھ ڈالر اپنی اور اپنے خاندان کی سکیورٹی پر خرچ کر لے تو یہ دانشمندانہ فیصلہ ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں