مصری فوجی صدر سے وفاداری کا حلف نہیں اٹھائیں گے

حلف میں ترمیم کا مقصد فوج کو سویلین کںڑول سے آزاد کرانا ہے: مبصرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری فوجی صدر مملکت کی براہ راست وفاداری کا حلف نہیں اٹھائیں گے۔ عبوری صدر عدلی مںصور کے جاری کردہ فرمان کو مبصرین فوج کو سویلین کنڑول سے نکالنے کی ایک کوشش سے تعبیر کر رہے ہیں۔

مسلح فوج کے ترمیم شدہ حلف کے بعد فوجی افسران اب صرف "اپنی قیادت کے حکم کی بجا آوری" کا عہد کریں گے۔ اس سے پہلے وہ "صدر مملکت کے وفادار رہنے" کا حلف اٹھا کر فوج میں شمولیت اختیار کرتے تھے۔

فوجی ترجمان احمد علی نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' سے بات کرتے ہوئے اس تبدیلی کو "مثبت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "اس کے ذریعے حلف کو ذاتی وفاداری سے آزاد کر دیا گیا ہے۔" نئے حلف میں صدر کا مخفی حوالہ موجود ہے کیونکہ وہی مسلح فوج کے سپریم کمانڈر ہوتے ہیں۔ اس طرح حلف وفاداری کو شخصیت کے بجائے قیادت سے منسوب کر دیا گیا ہے۔"

مبصرین حلف کے متن میں ترمیم کو ایک اور علامتی تبدیلی کا نام دے رہے ہیں۔

مصری سیاست پر گہری نظر رکھنے والے امریکا کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر نیٹن براؤن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کی جانب سے پیش کردہ مواد کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

"میری سوچی سمجھی رائے میں یہ فیصلہ صدر نے اپنے طور پر نہیں کیا۔ اس اقدام کی محرک فوجی قیادت ہے اور ایک ربڑ اسٹیمپ عبوری صدر سے اس کی توثیق بآسانی کرا لی گئی ہے۔"

مسٹر براؤن نے مزید کہا کہ مصری فوجی افسروں کے حلف میں تبدیلی کا فیصلہ دوسرے ملکوں میں ایسی روایت سے قطعی مختلف ہے جہاں فوج "دستور یا قانون سے وفاداری" کا حلف اٹھاتی ہے۔ مصر میں اب فوجی کسی "سویلین عہدیدار، قانون یا ضابطے" سے وفاداری کا حلف اٹھانے کے پابند نہیں ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں