.

الجزیرہ کا نیا منصوبہ، خطیر سرمایہ، 900 کارکن، پذیرائی مفقود

امریکا کے لیے اس نئے منصوبے کو 54000 سے زائد ناظرین نہ ملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزیرہ کا نیا اور مہنگا وینچر امریکی ٹیم کی مدد کے باوجود عوامی سطح پر پذیرائی نہیں پا سکا ہے۔ نو سو کارکنوں کی بھاری بھر کم ٹیم اور خطیر سرمایہ بھی رنگ نہ جما سکا۔ کیبل کمپنی نے بھی معاہدہ منسوخ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق الجزیرہ نے امریکی ناظرین کی توجہ پانے کے لیے حال میں بھر پور تیاری اور امریکی معاصر کے مہارت کے ساتھ ایک مشترکہ چینل شروع کیا لیکن شروع میں ہی سخت ضعف کا شکار ہو گیا ہے۔ الجزیرہ کا نیا شروع کیا گیا امریکی ٹی وی چینل افتتاح کے پہلے ہفتے ہی عملا پٹ گیا ہے۔

مارکیٹ ریسرچ کمپنی نیلسن کی طرف سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق پہلے ہفتے کے دوران الجزیرہ کے امریکی چینل کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے باوجود پرائم ٹائم شو''امریکا ٹو نائٹ '' کو صرف 27000 ناظرین مل سکے۔

الجزیرہ کو ملنے والی اس ''ویوور شپ'' کے مقابلے میں فاکس نیوز کے پروگرام ''دی او رئیلی فیکٹر'' کو دو اعشاریہ ستانوے ملین ناظرین دستیاب رہے، ایم ایس این بی سی کے پروگرام 'Rachel Maddow' کو970000 کو ناظرین ملے، اسی طرح سی این این کے پروگرام'' اینڈر سن کوپر'' کو 627000 ناظرین دستیاب تھے۔ الجزیرہ کی اس مشترکہ کاوش اجم کو سب سے زیادہ ملنے والی'' ویورشپ'' جمعرات کو اس کے اہتمام کے ساتھ ہائر کیے گئے اینکرعلی ویلشی کے پروگرام کو ملی لیکن یہ بھی محض 54000 کے ہندسے کو چھو سکی ۔

بیس اگست سے اب تک اس چینل کو اوسطا صرف 22000 ناظرین مل پائے ہیں۔ البتہ اس کے پروگرام نیوز لائیو کو دو بجے والے بلٹن کے لیے 48000 ناظرین ملے۔

دلچسپ پہلو یہ کہ الجزیرہ نے اپنے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے بارہ بیوروز بھی قائم کیے لیکن نتیجہ نہ ہونے کے برابر رہا۔ کیا ابلاغ کی دنیا کے سمندر میں جزیرہ گھت رہا ہے؟