.

سزا نہ ملی تو بشار الاسد دوبارہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرے گا: جیش الحر

مغربی طاقتوں نے متوقع حملے کے اہداف کی فہرست نہیں مانگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی باضابطہ فوج "جیش الحر" کے چیف آف اسٹاف جنرل سلیم ادریس نے کہا ہے کہ عالمی برادری نے شامی صدر کو سزا نہ دی تو وہ نہتے شہریوں کے خلاف دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بشارالاسد نے معصوم شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کر کے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی ہے جس کے نتیجے میں چھے ہزار شہری جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ بشارالاسد کی وفادار فوج اگلے چند دنوں یا ہفتوں میں اسی طرح کی جارحیت دوبارہ کرسکتی ہے، جس میں ممکنہ طور پر زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

جیش الحرکے سربراہ جنرل سلیم نے ان خیالات کا اظہار العربیہ ٹی وی کے پروگرام "پوائنٹ آف آرڈر" میں خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مغربی ملکوں نے ہم سے شام میں جنگ کے ممکنہ اہداف کی کوئی فہرست نہیں مانگی اور نہ ہی ہم نے انہیں بتایا کہ فضائی حملے کی صورت میں کون کون سے اہداف زیادہ اہم ہیں۔

جنرل سلیم کا کہنا تھا کہ مغرب کے پاس جدید مواصلاتی سیارے موجود ہیں جن کی مدد سے وہ شام کی صورت حال کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ شام میں کون کون سے مقامات بشارالاسد کے لیے اسٹریٹیجک اعتبار سے اہم ہیں جنہیں تباہ کرنا ضروری ہے۔

بیرونی حملے کی صورت میں جیش الحرکے کردار کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ "جیش الحر" کے تعاون کے بغیر کوئی جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔ 'فری سیرین آرمی' اور اس کی کمان میں لڑنے والے تمام دیگر گروپوں کو منظم کرکے زمینی راستوں پر پیش رفت کی جائے گی تاکہ فضائی حملوں کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

سرکاری فوج میں پھوٹ

دمشق کے قریب ایک ہفتہ قبل کیمیائی حملے پر عالمی برادری کے ردعمل کے اثرات کے بارے میں جنرل سلیم ادریس نے کہا کہ "میرے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ سرکاری فوج سخت خوف کا شکار ہے، جس کے باعث فوج میں بڑے پیمانے پر پھوٹ پڑنے والی ہے۔ بشارالاسد کے وفاداروں کو اندازہ ہے کہ اب حالات ان کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ انہیں اب صرف اپنی جانیں بچانے کی فکر دامن گیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان کے پاس فرار کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہا ہے"۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا محدود غیرملکی کارروائی یا سرجیکل اسٹرائیک کامیاب رہے گی؟ تو انہوں نے کہا کہ "باہر سے ہونے والی کوئی بھی کارروائی باغیوں کے لیے مفید ثابت ہو گی۔ چاہے وہ محدود پیمانے ہی پرکیوں نہ ہو۔ اس سے بشارالاسد کے حامی جنگجو کمزور اور باغیوں کی بری فوج کو تقویت ملے گی جس سے وہ پیش قدمی کر سکے گی۔

جنرل سلیم ادریس نے بشارالاسد کے سقوط کے بعد ممکنہ خانہ جنگی کے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض مغربی ممالک کا یہ خیال قطعی غلط ہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام خانہ جنگی کا شکار ہوگا۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ملک خانہ جنگی سے گذر رہا ہے۔ موجودہ خانہ جنگی بشارالاسد کی وجہ سے ہے جوان کے اقتدار چھوڑنے پر ہی ختم ہوسکتی ہے۔ جنگ جیتنے کے بعد ہم ملک کے حالات کو معمول پر لائیں گے اورعالمی برادری سے مستحکم تعلقات قائم کریں گے۔

اسرائیل سے تعاون مسترد

باغیوں کی نمائندہ فوج کے سربراہ جنرل سلیم نے اسرائیل کے بارے میں اپنا موقف دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ باہر سے حملے کی صورت میں ہمیں اسرائیل کا تعاون نہیں چاہیے اور نہ ہی ہم ملک میں کسی ہدف پراسرائیلی حملے کی حمایت کریں گے۔ ہمیں اسرائیل کے حوالے سے شامی قوم کی حساسیت کا اندازہ و احساس ہے۔ جنگ کے بعد بھی ہم اسرائیل سے کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کریں گے۔

جنرل سلیم نے بعض ممالک کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کوبھی مسترد کیا اور کہا کہ باغیوں کے پاس ایسے ہتھیار نہیں ہیں جنہیں کیمیائی اسلحے کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری فوج کی جانب سے جن علاقوں پر کیمیائی حملے کیے گئے جیش الحر کو وہاں سے بھی کسی قسم کا اسلحہ نہیں ملا ہے اور نہ ہی سرکاری فوج کے کسی ڈپو سے انہیں ایسے ہتھیار مل سکے ہیں۔ ہم عالمی سطح پر ممنوعہ ہتھیار لیں گے اور نہ جنگ کی آڑمیں نہتے شہریوں کو جنگ کا ایندھن بنائیں گے۔