.

شامی حکومت نے دفاتر اسکولوں اور جامعات میں منتقل کردیے

دمشق میں فوجی تنصیبات کو خالی کردیا گیا: شامی اپوزیشن کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت نے مغرب کے ممکنہ حملے سے بچنے کے لیے اپنے دفاتر کو اسکولوں اور جامعات میں منتقل کردیا ہے۔

العربیہ نے حزب اختلاف کے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ صدر بشارالاسد کی مسلح افواج نے اپنے اسکڈ میزائلوں اور لانچروں کو دمشق کے شمال سے کسی نامعلوم علاقے کی جانب منتقل کردیا ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی مقامی رابطہ کمیٹیوں نے اطلاع دی ہے کہ اسد رجیم نے جبل قاسیون اور دارالحکومت میں پیپلز پیلس کے ملٹری یونٹوں کی بجلی بھی منقطع کردی ہے۔

دمشق میں باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے ایک ذریعے اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ مغربی کفرسوسہ میں سکیورٹی کمپلیکس کے نزدیک واقع شام کی کمان فورسز اور فضائیہ کے ہیڈکوارٹرز کو بھی خالی کردیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے ترجمان خالد صالح نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مسلح افواج کے افسروں کی بڑی تعداد منحرف ہوگئی ہے اور ان میں سے بیشتر سول کپڑوں میں ملبوس ہوکر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ دوسری جانب شامی فوج کے بعض افسروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس دعوے کی تردید کی ہے۔

برطانوی اخبار گارجین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ان افسروں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کا مورال بلند ہے۔ امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے کم سے کم آٹھ ہزار فدائی تیار بیٹھے ہیں اور اس کے علاوہ انھیں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور ایران کی بھی حمایت حاصل ہے۔

اس دوران امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک شام کے خلاف جنگی تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ شامی رجیم کی تبدیلی نہیں چاہتے ہیں لیکن شامی قومی اتحاد کے سربراہ احمد الجربا کا کہنا ہے کہ مغرب کی جانب سے شام میں فوجی مداخلت کے نتیجے میں بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے گا۔