.

شام پر ممکنہ حملہ: امریکی صدر کا قومی سلامتی ٹیم سے تبادلہ خیال

اوباما برطانوی پارلیمان میں جنگ مخالف قرارداد کی منظوری کے باوجود پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے جمعہ کو واشنگٹن میں اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ارکان کے ساتھ اجلاس منعقد کیا ہے اور ان سے شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی صدر کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی پارلیمان میں جنگ مخالف قرارداد کی منظوری کے باوجود شامی صدر بشارالاسد کو سزا دینے کے لیے پُرعزم نظر آتے ہیں اور وہ اکیلے بھی شام پر چڑھائی کے لیے تیار ہیں۔

درایں اثناء وائٹ ہاؤس شام میں گذشتہ ہفتے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق نئی خفیہ دستاویزات جاری کررہا ہے تاکہ شامی صدر کے خلاف محدود پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کی جاسکے۔

ان دستاویزات کے مطابق امریکی حکام یہ نتیجہ اخذ کرچکے ہیں کہ اسد حکومت نے ہی دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے میں خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد مارے گئے۔

اوباما انتظامیہ کے بعض سنئیر عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ارکان کانگریس کو بھی گذشتہ روز شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق بعض خفیہ شواہد پیش کیے گئے تھے۔ ان میں شامی حکام کی ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل تھی جس کو امریکا کے خفیہ اداروں نے ریکارڈ کر لیا تھا۔

صدر براک اوباما اور ان کے سنئیر عہدے دار شام کے خلاف محدود پیمانے پر میزائل حملے کرنا چاہتے ہیں جن میں شامی فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ شامی تنازعے میں الجھنا نہیں چاہتے بلکہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں وہاں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہ ہو۔