.

مصری دستور: مذہبی سیاست کرنیوالوں پر سیاست کا دروازہ بند

حسنی مبارک کی ساتھی شخصیات کیلیے سیاست کا دروازہ کھل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج کی حمایت سے برسراقتدار عبوری حکومت نے نئے آَینی مسودے میں اس امر کی گنجائش پید ا کی ہے کہ طویل آمرانہ دور میں حسنی مبارک کے ساتھ کام کرنے والی اہم شخصیات دوبارہ سیاسی کردار ادا کر سکیں، جبکہ ملک میں دین اور مذہب کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کی اجازت نہ دی جائے۔

عبوری صدر عدلی منصور کی طرف سے مقرر کردہ دس رکنی پینل نے 2012 میں مصر کی منتخب قیادت کے دور میں سامنے آنے والے دستور کی37 شقوں کو مکمل طور خذف کر دیا ہے، جن میں مبارک رجیم کے ساتھیوں کے سیاست کرنے پر پابندی بھی شامل تھی۔

اب نئے مسودہ دستور کے آرٹیکل 55 میں کہا گیا ہے کہ '' شہریوں کو حق ہے کہ سیاسی جماعتوں کی تشکیل کریں، لیکن مذہب کی بنیاد پر کسی سیاسی جماعت کی تشکیل نہ ہو گی۔''

معزول صدر ڈاکٹر مرسی کے دور میں آئین کے آرٹیکل 2 میں اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب اور عربی کو سرکاری زبان قرار دیا گیا تھا ،جبکہ اس آرٹیکل کی وضاحت آرٹیکل 219 میں کی گئی تھی۔ لیکن نئے مسودہ آئین میں آرٹیکل 219 کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے خذف کر دیا گیا ہے۔

نئے مسودہ میں قیدیوں کی سزا معافی کے لیے صدارتی اختیار کو محدود کرتے ہوئے کابینہ کی منظوری کی شرط عائد کر دی گئی ہے۔ مرسی دور میں صدر کے لا محدود بنائے گئے اس اختیار پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

عبوری حکومت کی زیر نگرانی زیر ترتیب دستوری مسودے میں منتخب صدر کو آرٹیکل 147 میں دیے گئے اس اختیار کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جس کے تحت منتخب صدرسول اور فوجی افسروں کو برطرف کر سکتا تھا۔

عبوری حکومت کے ذرائع کے مطابق اسی ہفتے یہ آئینی مسودہ عدلی منصور کی قائم کردہ 50 رکنی کمیٹی کو پیش کر دیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس پچاس رکنی کمیٹی میں سیکولر نظریات کے حامل ارکان غالب اکثریت میں ہیں۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد اس مسودے پرریفرنڈم کرایا جائے گا۔