.

مصر: اخوان کے زیر اہتمام فوج کے خلاف مظاہرے، تین افراد ہلاک

قاہرہ اور دوسرے شہروں میں برطرف صدر مرسی کے حامیوں کی احتجاجی ریلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان نے مسلح افواج کے سربراہ کے ہاتھوں منتخب جمہوری صدر کی برطرفی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ اس دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تین افراد ہلاک اور کم سے کم چالیس زخمی ہوگئے ہیں.

قاہرہ کے علاقے نصر سٹی میں ہزاروں افراد نے نماز جمعہ کے بعد برطرف صدر کے حق میں مارچ کیا۔ انھوں نے ہاتھوں میں گذشتہ ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے خونیں کریک ڈاؤن میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

مصری فورسز نے سابق صدر کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے کارکنان کو انتباہ کررکھا تھا کہ اگر انھوں نے پر تشدد ہونے کی کوشش کی تو ان پر گولی چلا دی جائے گی۔ قاہرہ میں جمہوریت پسندوں نے نماز جمعہ کے بعد سکیورٹی فورسز کی کسی جارحانہ کارروائی سے بچنے کے لیے بڑے اور مشہور چوکوں اور چوراہوں میں مظاہرے نہیں کیے ہیں کیونکہ فوج وہاں ٹینکوں کے ساتھ چوکس تھی۔

ادھر نہر سویز کے کنارے واقع شہر پورٹ سعید میں ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور اکیس زخمی ہوگئے ہیں۔

قاہرہ کے وسط میں واقع صہیب رومی مسجد سے ایک جلوس نکالا گیا۔ اس میں قریباً پانچ سو افراد شریک تھے اور وہ لوگوں سے اپنے حق کے لیے میدان میں نکلنے کی اپیل کررہے تھے۔ انھوں نے مصری فوج کے خلاف نعرے بازی کی اور وزارت داخلہ کو ٹھگ قرار دیا

مصری دارالحکومت میں اخوان کے متوقع مظاہروں کے پیش نظر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ انھوں نے مظاہروں کی جگہوں کے نزدیک چیک پوائنٹس قائم کررکھے تھے اور دریائے نیل پر ایک پل کے راستے کو بھی مسدود کردیا تھا۔

فوجی انقلاب مخالف اتحاد نے نماز جمعہ کے بعد لوگوں سے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ اس اتحاد کے ایک رکن صلاح جمعہ کا کہنا تھا کہ ''ہم صورت حال کو پرامن بنانے کے لیے کسی بھی اپیل کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ہم پرامن انداز میں اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

اتحاد نے ایک الگ بیان میں فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت سے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور گذشتہ ماہ پیش آئے تشدد کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس نے جمعرات کو اخوان المسلمون کے سنئیر رہ نما محمد البلتاجی کو گرفتار کرلیا تھا۔ ان کے ساتھ برطرف حکومت میں وزیر محنت خالد الازہری اور اخوان کے ایک اور سرکردہ رہ نما جمال العشری کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ محمد البلتاجی نے اسی ہفتے پہلے سے ریکارڈ ایک بیان میں مصریوں پر زور دیا تھا کہ وہ جمعہ کو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں۔

مصر کے جمہوری طور پر منتخب پہلے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی 3 جولائِی کو برطرفی کے بعد سے فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے اخوان المسلمون کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے جس کے دوران اب تک سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اخوان کی قریب قریب تمام اعلیٰ قیادت کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

اخوان کے مرشدعام محمد بدیع اور ان کے دو نائبین خیرت الشاطر اور رشاد بایومی کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے لیکن انھوں نے اپنے خلاف ان بھونڈے الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

مصری حکام نے 10 جولائی کو انھی الزامات کے تحت محمد البلتاجی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ قاہرہ میں 8 جولائی کو علی الصباح برطرف صدر کے حامیوں کے خلاف مصری سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تریپن مظاہرین مارے گئے تھے۔ اس واقعے میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

مصری فوج کے تحت عبوری حکومت نے اس واقعے کے ذمے دار سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے الٹا اخوان کے قائدین کے خلاف مظاہرین کو تشدد کی شہ دینے کے الزام میں مقدمات قائم کردیے ہیں اور اب ان کے خلاف عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت کی جارہی ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی اپنی برطرفی کے بعد سے تشدد آمیز کارروائیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں زیر حراست ہیں اور ان سے مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تفتیش کی جارہی ہے۔ اس کیس کا تعلق دسمبر2012ء میں قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں سے ہے۔ مصری حکام نے منتخب صدر کو 3 جولائی کو معزول کرنے کے بعد سے کسی نامعلوم مقام پر نظربند کر رکھا ہے۔ ان کے خلاف قتل اور جاسوسی میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔