.

امریکا خارجہ پالیسی کے فیصلے خود کرتا ہے: وائٹ ہاوس ترجمان

شام میں امکانی محدود کارروائی کو عراق جنگ سے نہ جوڑا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے دو ٹوک انداز میں وضاحت کی ہے کہ شام کے خلاف کارروائی اور عراق کے خلاف جنگ میں واضح فرق ہو گا۔ شام میں ٹارگیٹیڈ اور محدود بنیادوں پر کارروائی ہو گی۔ اس لیے اسے بش دور کی عراق جنگ کے تجربے کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ یہ بھی واضح کیا ہے کہ شام میں کارروائی کا مقصد بشار رجیم کی تبدیلی بھی نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ایرنیسٹ نے جمعرات کو کیا اور واضح طور پر کہا '' امریکہ برطانوی حکومت میں سینئیر رہنماوں کے خیالات کا احترام کرتا ہے، لیکن وائٹ ہاوس کا موقف ہے کہ یہ اپنی خارجہ پالیسی کے متعلق فیصلے خود کر سکتا ہے۔''

دریں اثناء یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سینئیر امریکی حکام نے کانگریس کی ذمہ دار شخصیات کے لیے شام کے بارے میں بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ کا بھی اہتمام کیا ہے۔ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شام میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں سے ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے ابھرنے والی غم و غصے کی لہر کا جوش اب ٹھنڈا پڑ رہا ہے۔

اس صورت حال میں جہاں اوباما اتظامیہ نے شام میں امکانی کارروائی کو عراق جنگ کے ساتھ جوڑ ے جانے کو پسند نہیں کیا، وہیں وائٹ ہاوس نے یہ اشارہ دیا ہے کہ امریکا کے قومی مفادات کی خاطر کیمیائی ہتھیاروں پربین الاقوامی پابندی کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان کا کہنا تھا ''صدر اوباما کا شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف امکانی ردعمل امریکا کے عراق تجربے سے مختلف ہو گا۔ ہم جو بات کر رہے ہیں یہ ہماری ترجیحی جگہوں تک محدود کارروائیاں ہوں گی۔''