اخوان کی ہم خیال حماس حکومت کے خلاف 'بغاوت' کی بازگشت

“تمرد غزہ" نامی تحریک کی عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصر کی دینی و سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کے خلاف " تمرد تحریک" کی کامیابی کے بعد اب فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں حکمراں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی حکومت کے خلاف اسی نوعیت کی سازش کے تانے بانے تیار کیے جا رہے ہیں۔ سنہ 2006ء سے شہر پر حکمران حماس کے خلاف پہلے بھی صدر محمود عباس کی جماعت 'فتح' کے حامی احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ہیں لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی گروپ نے خود کو"غزہ تحریک بغاوت" قرار دے کر حماس کی حکومت کو چیلنج کیا ہے۔

گو کہ ابھی تک غزہ کی پٹی میں کوئی ایسی غیرمعمولی تحریک تو نہیں چلی ہے مگر"غزہ تمرد" نے اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ "غزہ تمرد" تحریک نے عوام سے حماس کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر آنے کی اپیل کی ہے۔ عوام کی جانب سے سڑکوں پراحتجاج تو نہیں ہو رہا ہے مگر شوشل میڈیا پر اس تحریک کی ہزاروں افراد کی جانب سے حمایت دیکھی جا رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر"غزہ تمرد" تحریک نے"ظلم کے خلاف بغاوت" کو اپنا سلوگن (نعرہ) قرار دیا ہے۔ انٹرنیٹ پرایک ویڈیو فوٹیج بھی تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے، جس میں فلسطینی پرچموں سے نقاب پوش چار نوجوانوں کو دکھایا گیا ہے جو غزہ کی پٹی میں حماس کےسات سالہ دور اقتدار کے خاتمے کے خلاف علم بغاوت بلند کر رہے ہیں۔ اسی ویڈیو میں غزہ کے باغیوں نے کل اتواریکم نومبرکو حماس حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کی کال بھی دی ہے۔

غزہ 'تمرد تحریک' کے ترجمان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ "انہوں نے اپنی مہم پڑوسی ملکوں میں بالخصوص مصرمیں سیاسی تبدیلی کے بعد شروع کی ہے، لیکن اس کا محرک بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے۔ حماس کی حکومت نے ظلم اور کرپشن کی انتہا کردی ہے۔

غزہ کے عوام کو جس طرح کے سنگین حالات کا اب سامنا ہے ماضی میں کبھی نہیں رہا ہے۔ معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ ہرطرف سیاسی انتشار اور افراتفری کا عالم ہے۔ مراعات صرف حماس کے لیڈروں اور جماعت کے وفاداروں تک محدود ہیں۔ ہمیں اس سماجی عدم مساوات نے حماس کی حکومت کے خلاف بغاوت پرمجبور کیا ہے۔ اب جوکچھ غزہ کی پٹی میں ہو رہا ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ حماس کے خلاف بغاوت برپا کی جائے"۔

'تمرد' تحریک کے ترجمان نے مزید کہا کہ ان کا اختلاف حماس سے نہیں بلکہ اس کی حکومت اور سیاسی پالیسیوں سے ہے۔ ہم حماس کو قوم کا ایک مضبوط حصہ سمجھتے ہیں اور ملکی سیاست میں اس کا موثر کردار تسلیم کرتے ہیں، لیکن ہم اس کی مطلق العنانیت سے تنگ ہیں۔ حماس ملک میں قومی مفاہمت پرسب سے زیادہ زور دیتی رہی ہے مگر اس نے حقیقی معنوں میں قومی مفاہمت کو اپنی غلط پالیسیوں کے باعث نقصان پہنچایا ہے۔

دوسری جانب شہر میں حکمراں جماعت حماس کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ اور تنظیم کے دوسرے رہ نماؤں نے'تمرد تحریک' کو غیرملکی سازش قرار دیا ہے۔ حماس کے رکن قانون ساز کونسل یحییٰ موسیٰ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف بغاوت کی تحریک برپا کرنے والوں کو مصری انٹیلی جنس اور فوج کی جانب سے تربیت، اسلحہ اور رقوم فراہم کی گئی ہیں۔ گوکہ 'تمرد تحریک' کے ترجمان نے بیرونی مدد ملنے کی سختی سے تردید کی ہے تاہم حماس کی پولیس نے ایسے کچھ تخریب کار عناصر کوحراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے جن کا غزہ کی پٹی سے تعلق نہیں ہے۔

جب سے غزہ کی پٹی میں "تمرد تحریک' کی بازگشت سنائی دینا شروع ہوئی ہے حماس نے شہرمیں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی ہے۔ تلاشی کی کارروائیوں میں درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

حماس کی مستعفی حکومت کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ "میں خود بھی بغاوت کی تحریک کے ساتھ ہوں لیکن یہ بغاوت فلسطینی عوام کے خلاف یا منتخب حکومت کے بجائے اسرائیلی دشمن کے خلاف ہونی چاہیے۔ ہم اس طرح کی زبان اپنوں کے بارے میں استعمال نہیں کرتے۔ میں اسے جذباتی نوجوانوں سے کہوں گا کہ وہ ایسی کوئی غلطی نہ کریں جس سے ہمارے قومی کاز کو نقصان پہنچے۔ حماس حکومت کی جانب سے سب کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔ خود کو یا کسی دوسرے کو امتحان میں ڈالنے سے بہتر ہے مل بیٹھ کر مسائل حل کرلیے جائیں"۔

غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کےخلاف بغاوت کی یہ تحریک ایک ایسے وقت میں سر اٹھا رہی ہے جب پڑوسی ملک مصرمیں حماس کی ہم خیال اخوان المسلمون کی حکومت عوامی تحریک اور فوجی بغاوت کے ایک خوفناک انجام سے دوچار ہو چکی ہے۔ باخبر حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ مصرمیں اخوان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اب خطے کے اسٹیک ہولڈر غزہ میں حماس کےخلاف بھی ایسی بغاوت پیدا کرسکتے ہیں۔ اسی طرح کے کچھ اشارے فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے بھی ملے ہیں۔ ان کی جماعت 'فتح' کی بیشتر قیادت پہلے ہی حماس کے حوالے سے خار کھائے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں