شام پرحملے کا سوچنے والے انجام بھی یاد کریں: حافظ بشار

بشار الاسد کا فرزند امریکی فوجی کارروائی کے حوالے سے پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اگست کے آخری عشرے میں شامی دارلحکومت دمشق کے علاقے مشرقی الغوطہ میں پراسرار کیمیائی حملے میں ہزاروں افراد کے ہلاکت کے ردعمل میں شام پرعالمی فوجی کارروائی کے بادل تو منڈلا رہے ہیں لیکن شامی حکومت بالخصوص صدر بشارالاسد کے خاندان کی جانب سے بھی جوابی اقدام کی دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پرصدر بشارالاسد کے فرزند حافظ بشار الاسد نے اپنی عمر سے کچھ آگے بڑھ کرامریکا کی متوقع یلغار کو للکارا ہے۔

'فیس بک' پراپنے دوستوں کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے ننھے حافظ بشار کا کہنا ہے کہ "مجھے لگ رہا ہے کہ امریکا، شام پرضرور حملہ کرے گا کیونکہ ہمارا ملک ہی امریکی فوجیوں کا قبرستان بنے گا۔ میں شام پر فوج کشی کے خواہش مندوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ جنگ کریں مگر اس کے تباہ کن انجام کو مت بھولیں"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق کسی غیر جانب دار ذرائع نے اس بات کی تصدیق تو نہیں کہ آیا کہ 'فیس بک' پر خود کو بشارالاسد کا فرزند ظاہر کرنے والا بچہ واقعی شامی صدر کا بیٹا ہے، تاہم 'فیس بک' اکاؤنٹ پر حافظ بشار کے د دوستوں کی فہرست میں زیادہ تر شام کے حکمران خاندان کے افراد یا علوی قبیلے کے لوگوں شامل ہیں۔ حافظ کے 'فیس بک' پر فرینڈز میں علوی قبیلے کے افراد کے علاوہ بھی کچھ نام شامل ہیں۔ ان میں سے ہرایک نے حافظ کے ریمارکس پر کھل کراس کی حمایت میں تبصرے بھی کیے ہیں اور اس کے ریمارکس کو"لائیک" بھی کیا ہے۔ دوستوں میں سے ایسا کوئی ایک بھی نہیں جس کی شناخت مشکوک سمجھی جائے اور نہ ہی کسی نے حافظ کو صدربشارالاسد کا بیٹا قرار دینے کی تردید کی ہے۔

حافظ نے اپنے"فیس بک" اکاؤنٹ پر بشارالاسد کے سابق مقتول جنرل آصف شوکت کے فرزندوں کے بیانات بھی شیئر کیے ہیں۔ حافظ کے دوستوں نے انہیں "لائیک" بھی کیا ہے۔ حافظ نے اپنے تعارف میں بتایا ہے کہ وہ دمشق میں الدیماس" کے مقام پر"مونٹیسوری" اسکول میں زیرتعلیم ہیں۔ خیال رہے کہ بشارالاسد کے تینوں بچے گیارہ سالہ حافظ، زین اور کریم اسی اسکول میں زیر تعلیم بتائے جاتے ہیں۔ حافظ کے فرینڈز اینڈ فیمبلی گروپ میں صدراسد کی اکلوتی ہمشیرہ بشریٰ الاسد کا ایک بیٹا باسل اور اس کی دو بہنیں بشریٰ اور انیسہ شوکت کے نام بھی شامل ہیں۔ ان کے والد جنرل آصف شوکت شام کے ڈپٹی آرمی چیف اور نائب وزیردفاع کے عہدے پرتعینات تھے۔ انہیں گذشتہ برس باغیوں نے دمشق میں ایک کارروائی میں قتل کردیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حافظ بشارالاسد کے فیس بک اکاؤنٹ سے جو تازہ تبصرہ ملا ہے اس میں وہ امریکا کے جنگی جنون کو للکار رہے ہیں۔ مختصر الفاظ میں ان کا تبصرہ کچھ یوں ہے"بلا شبہ امریکا کے پاس دنیا کی بہترین فوج، اعلٰی درجے کے بحری اور ہوائی جنگی جہاز، ٹینک سب کچھ، لیکن سپاہی؟۔ جیسے سپاہی ہمارے پاس ہیں ایسے کسی کے پاس نہیں ہیں"۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ "میں چاہتا ہوں کہ امریکی جنگ کا اپنا شوق پورا کرلیں کیوں کہ وہ یہ غلطی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کتنی بڑی غلطی کرنے جا رہے ہیں"۔

کسی نے اس پرتبصرہ کیا ہے کہ "پھر کون ان (امریکیوں) کا انجام جانتا ہے؟ اس کے جواب میں حافظ کے ایک دوست نے لکھا ہے"بشارالاسد امریکیوں کا انجام جانتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں