شام کیخلاف کارروائی 'سکڑی سمٹی' اور 'محدود' ہو گی: اوباما

دنیا کو مفلوج نہیں، عالمی اقدار کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صدر باراک اوباما نے امریکی قوم اور عالمی برادری کو شام کے بارے میں امریکی کارروائی کے حوالے سے اعتماد میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے خلاف کارروائی سکڑی سمٹی اور محدود ہو گی۔ ان کا کہنا تھا ہماری ترجیح شام کے خلاف کثیر القومی کارروائی ہے لیکن اس بارے میں سلامتی کونسل کی اہلیت کی وجہ سے دنیا کو مفلوج نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

صدر اوباما نے شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو دنیا کے لیے چیلنج اور امریکا کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا عالمی قیادت پر فائز ہونے کی وجہ سے یہ امریکا کی ذمہ داری ہے کہ ایک حکومت ممنوعہ ہتھیار استعمال کرے تو اس کا احتساب کیا جائے۔

انہوں نے اپنے آپ کو جنگ کا مخالف قرار دیتے ہوئے کہا '' مجھ سے زیادہ جنگ کا مخالف کوئی اور نہیں ہو سکتا ہے لیکن امریکا کو بین الاقوامی اقدار کا تحفظ بھی کرنا ہے۔

امریکی صدر کے یہ خیالات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا کی طرف سے انٹیلی جنس اداروں کا شامی صدر بشارالاسد کے کییائی ہتھیار استعمال کرنے کے بارے میں جائزہ سامنے آیا ہے۔

امریکی حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق الغوطہ میں 1429 افراد کیمیائی حملے کے باٰعث لقمہ اجل بنے، جن میں 426 بچے بھی شامل ہیں۔ امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے بشار رجیم نے ان ہلاکتوں کی منصوبہ بندی کی تھی ۔ شامی اہلکار جو کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہے تھے انہوں نے اس مقصد کے لیے دمشق کے نواحی علاقے ادرا کو اپنا مرکز بنایا، اور 18 اگست تک وہ وہاں مو جود تھے جبکہ کیمیائی ہتھیار 21 اگست کو دمشق کے ایک اور نواحی علاقے میں ان اہلکاروں نے سارین کے ساتھ ملا جلا کے استعمال کیا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں