عالمی اقتصادی پابندیوں کے باعث ایران تیل کی نصف آمدن سے محروم

"ایرانی اثاثے امریکی بنکوں میں منجمد پڑے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بنکوں سے لین دین پرپابندیوں کے باعث تہران کو تیل سے حاصل ہونے والی نصف آمدن سے محروم ہونا پڑا ہے۔ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل سے حاصل ہونے والی رقوم سمیت اثاثوں کی ایک بڑی مالیت امریکی بنکوں میں منجمد پڑی ہوئی ہے۔

امریکی عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی" اے پی" کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اوباما انتظامیہ کی رپورٹس کے مطابق ایران رواں سال کی پہلی ششماہی میں ماہانہ تیل سے حاصل ہونے والے ایک ارب 50 کروڑ ریونیو سے محروم رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کو مجموعی طورپر ماہانہ تیل کی درآمدات سے تین ارب چالیس کروڑ ڈالرز کی آمدن ہوسکتی ہے مگرعالمی پابندیوں کے باعث یہ مقدار نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کو تیل کی آمدن میں ہونے والی تازہ کمی رواں سال فروری میں عالمی برادری کی جانب سے عائد کردہ عالمی پابندیوں کا نتیجہ ہے۔

خیال رہے کہ امریکا اور اس کے حلیف ممالک ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے خلاف گذشتہ کئی سال سے تہران پرپابندیاں عائد کرتے آ رہے ہیں۔امریکا نے نہ صرف خود ایران سے تیل برآمد کرنے پرپابندی عائد کی ہوئی ہے بلکہ تہران سے تیل خریدنے والے ممالک اور عالمی فرموں سے بھی لین دین بند کردیا ہے۔

سنہ 2011ء میں ایران یومیہ 25 لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا تھا لیکن عالمی پابندیوں کے اثرات کے باعث اب یہ مقدار دس لاکھ بیرل تک محدود ہوچکی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم"اویپک" کے مطابق بیرونی پابندیوں کے باعث ایران قدرتی تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی فہرست میں دوسرے سے گر کرپانچویں نمبر پرآ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں