قاہرہ میں پھر چھ مظاہرین ہلاک، مظاہروں میں ہزاروں شریک

صرف جمعہ کے روز 190 افراد زخمی ہو گئے، سخت سکیورٹی انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں جمعہ کا دن پھر اخوان المسلمون کے لیے ہلاکتوں کا پیغام لے کر آیا اور پہلے جمہوری صدر مرسی کی بحالی کے حق میں مظاہرہ کرنے والے کم از کم چھ افراد لقمہ اجل بنا دیے گئے۔ ان مظاہرین میں سے ایک سو نوے کے سکیورٹی فورسز کے آہنی ہاتھوں کی زد میں آ کر زخمی ہوںے کی اطلاع آئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق یہ ہلاکتیں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران ہوئی ہیں۔

چند دن کی خاموشی کے بعد قاہرہ سے پھر خونریزی کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ جمعہ کے روز اخوان المسلمون نے مرسی کی بحالی، اسیران کی رہائی اور اب تک لقمہ اجل بننے والے سیکڑوں مظاہرین کی تصویریں اٹھا کر انہیں یاد کرنے کی خاطر مظاہرے ترتیب دیے تھے۔ اس اعلان کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت کے اہم چوراہوں اور احتجاجی مراکز کو کیل کانٹے سے لیس ہو کر کنٹرول میں کر لیا تھا۔ اس لیے اخوانی مظاہرین کا رخ دوسری جگہوں کی طرف ہو گیا۔

قاہرہ کے علاقے نصر سٹی ڈسٹرکٹ میں ہزاروں مظاہرین اپنے حالیہ دنوں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے ساتھیوں کی تصاویر اٹھا کر جمع تھے، تاہم گزشتہ دنوں کے مقابلے میں تشدد کی سطح کم رہی۔ البتہ سکیورٹی فورسز کو ہدایات تھیں کہ اگر مظاہرین ہنگامہ آرائی کریں تو گولی چلا دی جائے۔

نہر سویز سے متصل پورٹ سعید سے وزارت صحت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس شہر میں مظاہرین کا ایک ساتھی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ بالعموم جمعہ کے روز مرسی کے حامیوں کے مظاہرے مختلف جگہوں پر بکھرے نظر آئے۔ قاہرہ کی رومی مسجد کے پاس پانچ سو کے قریب مظاہرین جمع تھے۔ یہ لوگ اپنے جاں بحق ساتھیوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور وزارت داخلہ کو ٹھگوں کی وزارت قرار دے رہے تھے۔ ان کے نعرے تھے ''مصر ایک اسلامی ریاست ہے سیکولر نہیں۔''

سہ پہر کے دوران ہزاروں مظاہرین قاہرہ کے مختلف اضلاع اور مضافات میں نمودار ہو گئے۔ یہ مظاہرین جمہوری صدر اور جمہوری حکومت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے سکیورٹی اہلکار سر پر ہیلمٹ اور بدن پر بلٹ پروف جیکٹس پہنے آنسو گیس اور سیمی آٹو میٹک رائفلز سے لیس تھے۔ ان اہلکاروں نے دریائے نیل کے پل کو جانے والے راستے کو بلاک کر رکھا تھا۔

فوجی بغاوت کے خلاف اخوان کی زیر قیادت اتحاد نے اس موقع پر پرامن ریلیوں کی کال دی اور کہا وہ کشیدگی ختم کرنے کی تجاویز پر غور کریں گے۔ میڈیارپورٹس اور سرکاری ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز کم از کم چھ افراد جاں بحق اور 190 زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں