.

اردن: ابو قتادہ کے خلاف 10روز میں ٹرائل کا آغاز

اردنی پراسیکیوٹر نے راسخ العقیدہ عالم دین سے تحقیقات مکمل کرلیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے ایک عدالتی ذریعے کا کہنا ہے کہ حال ہی میں برطانیہ بدر ہوکر واپس آنے والے فلسطینی نژاد عالم دین ابو قتادہ کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں مقدمے کی سماعت آیندہ دس روز کے دوران شروع ہوجائے گی۔

اس ذریعے نے اتوار کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''پراسیکیوٹر نے ابوقتادہ کے خلاف اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور ان کے خلاف اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں آیندہ دس روز کے دوران مقدمے کی پہلی سماعت ہوگی''۔

برطانیہ نے جولائی میں ملزم کو اردن کے حوالے کیا تھا اور اردن کے فوجی پراسیکیوٹرز نے ان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی۔ اگر انھیں عدالت نے ان الزامات میں قصوروار قرار دیا تو انھیں کم سے کم پندرہ سال قید بامشقت سنائی جاسکتی ہے۔

ان کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور میڈیا کو بھی عدالتی کمرے تک رسائی حاصل ہوگی۔ تریپن سالہ ابو قتادہ اس وقت اردن کی انتہائی سکیورٹی والی جیل موقار میں زیر حراست ہیں۔ اس جیل میں قریباً گیارہ سو قیدی بند ہیں۔ ان میں زیادہ تر اسلامی جنگجو یا اسلامی جماعتوں کے کارکنان ہیں۔ انھیں دہشت گردی کے مختلف الزامات کے تحت قصوروار قراردیا گیا تھا۔

ابوقتادہ اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اردن میں 1999ء اور 2000ء میں ان کے خلاف دہشت گردی کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات میں ان کی عدم موجودگی میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

اردن کی ایک عدالت نے ابوقتادہ کو 1999ء میں دہشت گردی کے کارروائیوں اور دارالحکومت عمان میں امریکی اسکول پر حملے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قراردے کر سزائے موت سنائی تھی لیکن بعد میں ان کی اس سزا کو عمرقید بامشقت میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ اب ان کی اردن واپسی پران کے خلاف یہی مقدمہ دوبارہ چلایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے اردن کے ساتھ مشتبہ افراد کی بے دخلی کے معاہدے کی توثیق کے بعد راسخ العقیدہ عالم دین ابوقتادہ کو بے دخل کردیا تھا۔ وہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران برطانیہ بدری سے بچنے کے لیے قانونی جنگ لڑتے رہے تھے۔ وہ 1993ء سے برطانیہ میں مقیم تھے۔ اس دوران انھیں متعدد مرتبہ جیل کی ہوا کھانا پڑی اور عدالتوں میں قانونی جنگ ہارنے کے بعد انھیں بالآخر برطانیہ سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔

برطانیہ نے انھیں اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ قراردیا تھا اور انھیں ایک ہسپانوی جج نے ماضی میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا ایک سنئیر مشیر قراردیا تھا جبکہ برطانوی حکومت کے وکلاء نے ان کا تعلق القاعدہ کے ایک جنگجو زکریا موسوی سے بھی جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ القاعدہ نے برطانیہ کو انھیں اردن کے حوالے کرنے پر حملوں کی دھمکی تھی۔ تاہم اس جنگجو تنظیم نے اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ نہیں پہنایا ہے۔