.

جامعہ الازہر نے شام پر امریکی حملے کی مخالفت کردی

حملہ عرب اور اسلامی ملک کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مشہور تاریخی درس گاہ جامعہ الازہر نے شام پر امریکا کے متوقع حملے کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ اس کو عرب اور اسلامی قوم کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔

جامعہ الازہر نے اتوار کو ایک بیان میں دوٹوک الفاظ میں امریکی صدر براک اوباما کے شام کے خلاف فوجی حملوں کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے ہفتے کے روز یہ اعلان کیا تھا کہ وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری چاہیں گے اور کانگریس 9 ستمبر تک ان کے فیصلے کی حمایت کرے۔

براک اوباما اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بعض مستقل رکن ممالک کی مخالفت کے باوجود شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس وقت بحر قلزم میں امریکا کے پانچ جنگی بحری جہاز موجود ہیں اور ان سے ممکنہ طور پر شامی تنصیبات پر میزائل حملے کیے جائیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر بھی شام کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

جامعہ الازہر کا کہناہے کہ اس طرح کے حملے عرب اور اسلامی قوم کے خلاف جارحیت سمجھے جائیں گے اور ان سے عالمی امن اور سلامتی خطرات سے دوچار ہوجائیں گے۔

عالم اسلام کی اس عظیم تاریخی دانش گاہ کا کہنا ہے کہ شامی عوام کو اپنی قسمت اور حکومت کا آزادانہ اور شفاف انداز میں فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ بیان میں شام میں کسی بھی فریق کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور باغی جنگجوؤں دونوں نے ہی دمشق کے نواح میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔ درایں اثناء آج قاہرہ میں عرب لیگ کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا جائے گا اور توقع ہے کہ اس میں شامی صدر کی اپنے ہی عوام کے خلاف سفاکانہ کارروائیوں پر مذمت کی جائے گی۔