شام بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے: بشارالاسد

شامی صدر بشارالاسد نے امریکی صدر کے اعلان جنگ کے ردعمل میں پہلا بیان جاری کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی صدر بشارالاسد نے اپنے امریکی ہم منصب براک اوباما کی جانب سے حملے کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اتوار کو ان کا یہ بیان نقل کیا ہے: ''شام بالکل اسی طرح کسی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے جس طرح وہ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کی شکل میں اندرونی جارحیت کا مقابلہ کررہا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ شام نے پے در پے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ امریکی صدر کے ہفتے کے روز شام پر حملے کے لیے خلاف توقع اعلان کے بعد ان کا یہ پہلا ردعمل ہے۔

ان سے قبل شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے دمشق میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اوباما جب گذشتہ روز گفتگو کررہے تھے تو وہ واضح طور پر متردد، مایوس اور کنفیوز نظر آرہے تھے''۔

امریکی صدر نے اپنے اعلان کے بعد کانگریس کو باضابطہ طور پر شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے درخواست بھیجی ہے۔ کانگریس کے ارکان اس وقت گرمیوں کی چھٹیوں پر ہیں اور نو ستمبر کو ان کی یہ تعطیلات ختم ہوں گی، اس کے بعد ہی وہ صدر کی درخواست پر غور کریں گے۔ اس لیے اس سے قبل شام کے خلاف امریکی فوج کی کسی کارروائی کا امکان نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں