.

شام میں جاری خانہ جنگی میں 110000 سے زیادہ ہلاکتیں

باغیوں سے لڑائی میں 27654 شامی فوجی اور حزب اللہ کے 171 جنگجو مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے شام میں مارچ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی مزاحمتی تحریک اور خانہ جنگی میں ہلاکتوں کے نئے اعدادوشمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق گذشتہ انتیس ماہ کے دوران ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

آبزرویٹری کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں چالیس ہزار ایک سو چھیالیس شہری مارے گئے ہیں۔ ان میں کم سے کم چار ہزار خواتین اور پانچ ہزار آٹھ سو سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی تعداد اکیس ہزار آٹھ سو پچاس رہی ہے۔

اس گروپ نے اگست 2013ء تک ہلاکتوں کے یہ اعداد وشمارخانہ جنگی کا شکار ملک میں موجود اپنے کارکنان کے نیٹ ورک، ڈاکٹروں اور وکلاء کے حوالے سے فراہم کیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ستائیس ہزار چھے سو چوّن فوجی، حکومت نواز ملیشیا کے سترہ ہزار آٹھ سو چوبیس جنگجو اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ایک سو اکہتر کارکنان ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے چند ہفتے قبل شام میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ بتائی تھی اور کہا تھا کہ اب ہر ماہ خانہ جنگی میں قریباً پانچ ہزار افراد مارے جارہے ہیں اور مہاجرین کا 1994ء میں افریقی ملک روانڈا میں نسل کشی کی طرح بدترین بحران پیدا ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق اب تک شام کے پڑوسی ممالک میں قریباً بیس لاکھ شامی مہاجرین کا اندراج کیا گیا ہے اور ہر ماہ اوسطاً چھے ہزار افراد خانہ جنگی میں جانیں بچا کر دربدر ہورہے ہیں۔ بیس سال قبل روانڈا میں نسل کشی کے نتیجے میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے اس طرح نقل مکانی کی تھی۔ اب اس کے بعد شامیوں کی بڑی تعداد اپنا گھربار چھوڑ کر مہاجرت کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہے۔