.

عراق: اراکین پارلیمنٹ کی بے پناہ مراعات کے خلاف ملک گیر احتجاج

ملک کے 12 اضلاع میں جلسے جلوس اور ریلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں حکومت کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کو دی جانے والی بے پناہ مراعات، بدعنوانی، لوٹ مار، بے روزگاری اور ملک کے طول وعرض میں پھیلی لاقانونیت کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

ہفتے کے روزعراق کے جنوب، وسط اور شمال کے 12 اضلاع میں ہزاروں افراد نے جلسے جلوس منعقد کیے اور ریلیاں نکالیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں اٹھائے بینروں پر اراکین پارلیمان کو دی جانے والی مراعات کو"لوٹ مار اور قومی خزانے پر ڈاکہ" قرار دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بغداد حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کی تازہ لہر کا آغاز سوشل میڈیا پر چند روز قبل ہوا تھا، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے بارہ اضلاع میں لوگ حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ دارالحکومت بغداد میں پولیس اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود سڑکوں پر 'دما دم مست قلندر' جاری رہا اور مشتعل مظاہرین "ڈاکو اراکین پارلیمنٹ" کے نعرے لگاتے رہے۔

وزیراعظم کی یقین دہانی

درایں اثناء عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے مشیر خاص علی الموسوی نے کہا ہے کہ حکومت کوعوام کی مشکلات کا اندازہ ہے اور وزیراعظم نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ حکومت ان کے تمام جائز مطالبات پورے کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کرے گی۔

ادھرعراق کے مختلف شہروں سے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ فرانسیسیی خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" کے مطابق الناصریہ شہرمیں پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے تھے، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کراحتجاج کیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنےکے لیے ان پر پانی پھینکا، لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کی شیلنگ اورہوائی فائرنگ کی گئی۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق ملک کے تیسرے بڑے شہر الناصریہ میں ضلعی گورنر کے دفتر کے باہر کم سے کم ایک ہزار افراد جمع تھے۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کے خلاف سخت نعرے درج تھے۔ سب سے زیادہ نعرے اراکین پارلیمنٹ کی مراعات کے خلاف تھے جنہیں"قومی خزانے کے چور" قرار دیا گیا تھا۔ بغداد اور الناصریہ کے علاوہ الکوت، بابل، نجف، کربلا اور السماوہ اضلاع میں بھی ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کراحتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں عام شہری اور اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ غریبوں کے ٹیکسوں پر پلنے والے ایک رکن پارلیمنٹ کو چار سالہ مدت پوری ہونے کے بعد 13 ملین دینار دیے جاتے ہیں جبکہ ایک عام شہری کی ریٹائرمنٹ پراس کی پنشن چار لاکھ دینار سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اراکین پارلیمنٹ کو چار سال بعد یک مشت دی جانے والی یہ خطیر رقم اُنہیں ماہانہ بنیادوں پر ملنے والی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ ہے۔