.

واشنگٹن اور پیرس شام میں اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں: غلیون

ایران سے مدبھڑ کے خدشے کے پیش نظر اوباما گانگریس سے حملے کی توثیق چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی نیشنل کونسل کے سابق سربراہ ڈاکٹر برھان غلیون نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور پیرس شام میں شامیوں کے نہیں بلکہ اپنے مقاصد کا تحفظ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر برھان غلیون نے ان خیالات کا اظہار"العربیہ" نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مسٹر غلیون کے بقول: "شامی صدر بشار الاسد نے بین الاقوامی چارٹر کی خلاف ورزی کی۔ صدر باراک اوباما نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم وہ حملے کے نتیجے میں روس اور ایران کے ساتھ مدبھڑ کے خدشے کے پیش نظر اس کی توثیق امریکی کانگریس سے کرانا چاہتے ہیں۔"

انہوں نے توقع ظاہر کی امریکی گانگریس شام کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دے دی گی جو بقول شامی اپوزیشن رہنما دوسرے مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ کے منتخب ایوانوں کو ایسے حملے کی توثیق پر آمادہ کرنے میں مددگار ہو گی۔

برھان غلیون نے کہا کہ اسی پس منظر میں شام کے اندر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی سامنے آ چکی ہو گی تو اس سے بھی بڑے پیمانے پر بشار الاسد کے خلاف بین الاقوامی رائے عامہ تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔ اس کامیابی کی صورت میں بشار الاسد اور ان کی حکومت کے خلاف یکے بعد دیگرے حملوں کا جواز پیدا ہو جائے گا۔