.

اسرائیل نے چوتھا مصنوعی مواصلاتی سیارہ خلاء میں بھیج دیا

"عاموس 4" یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ سے رابطے میں مدد دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے روس کی مدد سے ایک مصنوعی سیارہ خلا میں چھوڑا ہے، جو تل ابیب کو مواصلاتی میدان میں معاونت فراہم کرے گا۔ اسرائیل کی مصنوعی سیاروں پر کام کرنے والی کمپنی کے مطابق خلائی شٹل "عاموس 4" گذشتہ روز کازخستان میں روس کے ایک اڈے سے "زینیٹ" میزائل کے ذریعے خلاء میں بھیجا گیا۔

ایک بیان میں اسرائیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ مصنوعی سیارہ ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات میں مدد فرہم کرنے کے ساتھ ساتھ یورپ، امریکا، مشرق وسطیٰ، افریقا، روس اور جنوب مشرقی ایشیاء کے بارے میں مواصلاتی رابطوں میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

خیال رہے کہ اسرائیل اب تک چار مصنوعی مواصلاتی سیارے خلاء میں بھیج چکا ہے۔ اس سے قبل "عاموس 3" سنہ 2008ء میں کازخستان روسی ساختہ میزائل "زینیٹ" ہی کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ مواصلاتی سیاروں کے علاوہ اسرائیل اب تک چھ جاسوس سیارے خلاء میں بھیج چکا ہے۔ کچھ عرصہ پیشتر "شاویٹ" راکٹ کے ذریعے خلاء میں بھیجے گئے"اوویک9" کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے ایران کی نگرانی کے لیے بھیجا گیا تھا۔

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل واحد غیرعلانیہ جوہری ریاست ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کے پاس مبینہ طورپر جدید ترین بیلسٹک میزائلوں سمیت ایمٹی وار ہیڈ لے جانے والے میزائل بھی موجود ہیں۔