.

تیونس: حکومت مخالف باغی مہم نے 17لاکھ دستخط حاصل کر لیے

تمرد تحریک مصر کے بعد تیونس میں اسلامی حکومت گرانے کے لیے پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک تیونس میں برپا ہونے والے بہاریہ انقلاب سے متاثر ہوکر شروع کی گئی تھی لیکن بعد ازانقلاب دونوں ممالک میں الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔

مصر میں پہلے منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف اس سال اپریل میں ''تمرد''(باغی) تحریک شروع کی گئی تھی۔ اس کے زیر اہتمام دستخطی مہم اور احتجاجی مظاہروں ہی کو جواز بنا کر مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے ڈاکٹر مرسی کو معزول کرکے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

اب مصر کی دیکھا دیکھی تیونسی ''باغیوں'' نے اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں مخلوط حکومت کے خلاف دستخطی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس تمرد مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسلامی جماعت کی حکومت کے خلاف اب تک سترہ لاکھ کے لگ بھگ ووٹروں کے دستخط حاصل کر لیے ہیں۔

عرب روزنامے الشرق الاوسط میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس باغی گروپ کے بانی محمد بن نور حکومت کو گرانے کے لیے پُرعزم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ارباب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان قومی مصالحت کے لیے حالیہ کوششوں کے باوجود وہ النہضہ کو اقتدار سے نکال باہر کریں گے۔

مسٹر بن نور نے انٹرویو میں حکومتی اتحاد پر اپنے گروپ کے ارکان پر حملوں کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تمرد تحریک ہی تھی جس نے موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت کا شعلہ بلند کیا تھا اور سب سے پہلے پارلیمان کی تحلیل کا مطالبہ کیا تھا۔

مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے خلاف جون میں تمرد تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہروں کے دوران ہی اس سے متاثر ہوکر تیونس میں بھی اسی نام سے حکومت مخالف اس مہم کا آغاز کیا گیا تھا اور اس نے سب سے پہلے ملک کے تمام طبقوں کے نمائندہ نئے آئین کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ تیونس کی قومی دستور ساز اسمبلی اپنے انتخاب کے قریباً دوسال کے بعد بھی ملک کے لیے مرتب کردہ نئے آئین کو منظور کرنے میں ناکام رہی ہے اور اسمبلی کے ارکان کے درمیان ہنوز کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ اسمبلی کو اس کے ارکان کی عدم دلچسپی اور عدم فعالیت کی وجہ سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔