.

عرب لیگ کا شام کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ

شام سرخ لکیر عبور کر چکا: سعود الفیصل ، سیاسی حل بہتر ہے: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ملکوں نے شام پر حملے کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا ہے، تاکہ شام کو کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی سزا دی جا سکے۔ اس امر کا مطالبہ عرب لیگ کے قاہرہ اجلاس میں منظور کردہ قرار داد میں کیا گیا ہے۔

قراراداد میں کہا گیا ہے ''ضروری ہے کہ جرائم کی ذمہ دار شامی رجیم کو جرائم سے باز کھنے کے لیے اس کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔ '' نیز عرب لیگ کے وزراء خارجہ کی طرف سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ بشار الاسد رجیم پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔

عرب لیگ کی جانب سے منظور کی گئی اس قرارداد سے قبل شام کی متحدہ اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا نے عرب وزرائے خارجہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکی قیادت میں مغربی ممالک کے شام پر امکانی حملے کی حمایت کریں۔ احمد الجربا کا کہنا تھا '' میں یہاں آپ کے درمیان اس لیے ہوں کہ آپ کے برادرانہ اور انسانی جذبات کی بنیاد پر یہ اپیل کر سکوں اور تباہ کن جنگی مشین بن جانے والی شامی رجیم کے خلاف مغربی ملکوں کے ہونے والے حملے کے لیے حمایت کا مطالبہ کروں۔''

جربا کا کہنا تھا '' میں شامی رجیم کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہوں جو اپنے ہی شہریوں کو ایرانی حملہ آوروں کے ساتھ مل کر ہلاک کر رہی ہے، ایرانی جنگجووں کے علاوہ لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ اور عراقی انتہا پسند مل کر شام کے لوگوں کو مار رہے ہیں۔ اس لیے خطے میں ایرانی اثر و رسوخ بڑھنے سے روکنے اور ایرانی مداخلت کے خاتمے کے لیے شام کو میدان جنگ بنانا ضروری ہے۔''

اس موقع پر سعودی عرب نے بھی شامی رجیم کے اپنے شہریوں کے خلاف تشدد روکنے کے لیے عامی برادری سے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کے بقول'' شامی رجیم تمام سرخ لکیروں کو عبور کر چکی ہے، لہذا وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری کو بلا کر سانحے کو روکا جائے۔''

مصر کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ نبیل فہمی نے یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ'' ان کا ملک شامی رجیم کا حامی نہیں ہے'' شام کے خلاف کسی فوجی کارروائِی کی مخالفت کی اور کہا شام کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔'' تاہم عرب لیگ نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے شام پر حملے کی قرار داد منظور کر لی۔