.

مصر: آئین کی ازسرنو تدوین کے لیے 50 رکنی پینل کا قیام

جامعہ الازہر، حزب النور اور مسیحی چرچ کے نمائندے پینل میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر نے آئین کی ازسرنو تدوین کے لیے پچاس ارکان پر مشتمل پینل کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

مصری سکیورٹی فورسز کے عتاب کا شکار اخوان المسلمون نے نئی عبوری حکومت کے تحت آئین کی ازسرنو تدوین کے لیے فریق بننے سے انکار کردیا تھا۔ اس لیے اس کا کوئی نمائندہ اس پینل میں شامل نہیں اور اس میں زیادہ تر سیکولر شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور کے ترجمان ایہاب البدوئی نے قاہرہ میں نیوز کانفرنس کے دوران دستور ساز پینل کے پچاس ارکان کے نام پڑھ کر سنائے ہیں۔ اس میں اسلامی جماعتوں کی جانب سے سلفی تحریک کی حزب النور کو نمائندگی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ الازہر اور مسیحی چرچ کے نمائندے بھی پینل میں شامل ہیں۔

نیا پینل آیندہ ساٹھ روز (دوماہ) میں نظرثانی شدہ آئین کا حتمی مسودہ عبوری صدر عدلی منصور کو پیش کرے گا جو اس کے بعد تیس روز میں نئے آئین پر ریفرینڈم کا اعلان کریں گے۔

مسلح افواج کے ہاتھوں برطرف صدر محمد مرسی کی حکومت میں دستور ساز اسمبلی نے گذشتہ سال مصر کا نیا آئین مرتب کیا تھا اور اس میں قانون سازی کے ماخذ کے طور پر اسلامی دفعات شامل کی تھیں۔ اس آئین کی دسمبر2012ء میں عوامی ریفرینڈم میں منظوری دی گئی تھی لیکن مصر کے آزاد خیال طبقوں اور حکومت مخالفین نے اس آئین کو مسترد کردیا تھا اور انھوں نے تمام مصریوں کا نمائندہ نیا آئین مرتب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔