.

مصر: قانونی ادارے کی اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دینے کی سفارش

قاہرہ میں ملک کی منظم جماعت کے ہیڈکوارٹرز کو بند کرنے کی بھی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی حکومت کو قانونی امور پر مشورے دینے والے ادارے اسٹیٹ کمشنرز اتھارٹی نے ملک کی سب سے منظم سیاسی ودینی قوت اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دے کر تحلیل کرنے کی سفارش کی ہے۔

اس قانونی ادارے نے قاہرہ مِیں اخوان المسلمون کے ہیڈکوارٹرز کو بھی بند کرنے کی سفارش کی ہے۔ الاہرام آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس ادارے کی غیر پابند سفارش سہ 2002ء کے ایک قانون پر مبنی ہے جس کے تحت گروپوں اور تنظیموں پر مسلح ملیشیائیں تشکیل دینے پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔

مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں 3 جولائی کو منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت نے اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنان کے خلاف گذشتہ ہفتوں کے دوران خونیں کریک ڈاؤن کیا ہے جس کے نتیجے میں اس کے سیکڑوں کارکنان مارے گئے اور اس کی کم وبیش تمام اعلیٰ قیادت اس وقت پابند سلاسل ہے لیکن اس کے باوجود مصری حکام اخوان المسلمون کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات عاید کررہے ہیں اور تشدد کو جواز بنا کر اس پر پابندی عاید کرنا چاہتے ہیں۔

مصر کے عبوری وزیراعظم حازم الببلاوی نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ اخوان المسلمون پر پابندی عاید نہیں کی جانی چاہیے اور نہ اسے سیاسی عمل سے خارج کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ''حکومت اس گروپ پر پابندی لگانے کے بجائے اس کے سیاسی ونگ اور اس کے کارکنان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گی اور اس کے بعد اس کی قسمت کا فیصلہ کرے گی''۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی رپورٹ کے مطابق ببلاوی کا کہنا تھا کہ ''کسی جماعت یا گروپ کو تحلیل کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے اور افراتفری کی صورت حال میں اس طرح کا فیصلہ غلط ہوگا''۔

اخوان المسلمون مصر کی سب سے قدیم اور منظم سیاسی قوت ہے۔ اس کو 1928ء میں قائم کیا گیا تھا۔سہ 1954ء میں مصر کے فوجی حکمرانوں نے اس کو تحلیل کردیا تھا مگر اس جماعت کے لگن کے پکے کارکنوں اورقیادت نے زیر زمین رہ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں اور قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی تھی۔

سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک نے اپنے تیس سالہ دور اقتدار میں اس جماعت کو کالعدم قرار دیے رکھا تھا۔ اس دوران جماعت کے وابستگان خیراتی اور تعلیمی سرگرمیاں انجام دیتے رہے تھے۔ حسنی مبارک کے دورحکومت میں اخوان کے کارکنان آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیتے رہے تھے اور انھوں نے حکمران طبقے کی چیرہ دستیوں کے باوجود کامیابی حاصل کی تھیں۔

فروری 2011ء میں حسنی مبارک کے اقتدار کا سورج عوامی احتجاج کے نتیجے میں غروب ہوگیا تو اس کے بعد مصر میں منعقد ہونے والے پانچ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی نے واضح برتری حاصل کی تھی اور اس سے ماضی میں تعلق رکھنے والے محمد مرسی ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری طور پر صدر منتخب ہوئے تھے۔

اخوان نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے سنہ 2011ء میں حریت اور عدل پارٹی کو رجسٹر کرایا تھا۔ محمد مرسی جون 2012ء میں صدر منتخب ہونے کے بعد اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے اور طاقتور مسلح افواج کے ملک کے سیاسی امور میں اثرورسوخ کو کم کرنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ ان کے خلاف آزاد خیال طبقوں اور حکومت مخالفین نے تحریک شروع کردی اور اس تحریک کو جواز بنا پر مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح نے انھیں برطرف کردیا۔

ان کی غیر آئینی اور غیر قانونی برطرفی کے خلاف اخوان المسلمون اور دیگر جمہوریت پسندوں نے عوامی مزاحمتی تحریک شروع کردی مگر مصری فورسز نے قاہرہ میں دو مقامات پر صدر مرسی کے حامیوں کے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا اور احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے اخوان کو کچلنے کے لیے حکومت کی مہم جاری ہے اور اس دوران بعض سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں نے اس کو تحلیل کرنے کے مطالبات بھی کیے ہیں۔