.

مصر میں آئین سازی کے لئے نئے پینل کی تشکیل

پچاس رکنی پینل میں اسلام پسند نمائندگی معدوم ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں قریب دو ماہ سے برسر اقتدار عبوری حکومت نے نئی آئین ساز کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا ہے، جس میں اسلام پسندانہ سوچ رکھنے والے عناصر کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے. کمیٹی کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے دو ماہ کا عرصہ دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ نئی آئین ساز کمیٹی اس سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کرے گی کہ موجودہ آئین میں مذہبی سوچ کی غماز وہ کون کون سے شقیں ہیں، جو یا تو ختم کر دی جانا چاہییں یا جن میں ترمیم کی جانا چاہیے۔

مصر کے موجودہ آئین میں ایسی شقیں گزشتہ برس اخوان المسلمون اور سخت گیر نظریات کی حامل دیگر اسلام پسند جماعتوں کی کوششوں کے نتیجے میں متعارف کرائی گئی تھیں۔ اب نئی آئین ساز کمیٹی کو یہ تجاویز پیش کرنا ہیں کہ آئین کی ان ’اسلامی شقوں‘ کو کس طرح ختم کیا جائے یا ان میں ترامیم کی جائیں۔

مصر کے عبوری صدر کی طرف سے مجموعی طور پر 50 شخصیات کو اس نئے آئین ساز پینل کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔