.

ایران مخالفین کے کیمپ پر 'عراقی فورسز کے حملے' کی ویڈیو جاری

نوری المالکی پر قتل عام کا الزام، حکومت خاموش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران مخالف تنظیم "مجاہدین خلق" کی جانب سے عراق میں قائم "اشرف کیمپ" میں دو روز قبل ہونے والے قتل عام کی ایک تازہ ویڈیو جاری کی ہے جس میں مسلح نقاب پوش حملہ آوروں کوعراقی فوجی وردی میں ملبوس دکھایا گیا ہے۔ مجاہدین خلق کی جانب سے یہ ویڈیو کیمپ پرحملے میں وزیراعظم نوری المالکی اوران کے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بطور ثبوت پیش کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ تین روز قبل عراق میں مجاہدین خلق کے کئی سال سے قائم مرکز "اشرف کیمپ" میں مسلح افراد نے حملہ کرکے تنظیم کے پچاس کے قریب ارکان قتل اور سیکڑوں کو زخمی کردیا تھا۔ مجاہدین خلق کی جانب سے فوری طور پر کارروائی کا الزام عراق کی سرکاری فوج پرعائد کیا گیا تھا اور وزیر اعظم نوری المالکی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

مجاہدین خلق کی جانب سے بغداد حکومت کے خلاف ثبوت پیش کرنے کے باوجود نوری المالکی کی انتظامیہ مکمل خاموش ہے۔ حکومت کی جانب سے اس کارروائی میں ملوث ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ مگرحکومت نواز بعض ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ "اشرف کیمپ" پر حملہ وہاں پر چھپے مجاہدین خلق کے "منافقوں" کے خلاف عراق کے عام شہریوں نے کیا ہے جس میں سیکیورٹی ادارے اور حکومت ملوث نہیں ہے۔

درایں اثناء پیر کے روز اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کا ایک وفد بھی اشرف کیمپ کی صورت حال کی جانکاری کے لیے بغداد پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کے وفد کے خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ کیمپ پر ہوئے حملے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہےہیں۔ فوری طور پر وہ کچھ نہیں بتا سکتے البتہ اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ آئندہ چند روز میں سامنے آ جائے گی۔

ادھر وزیراعظم نوری المارلکی کی جانب سے کیمپ پر حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اب تک 52 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے اور درجنوں شدید زخمی ہیں۔

عراقی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ انہوں نے کیمپ میں گاڑیوں اور گھروں میں رکھے گئے دھماکہ خیز مواد کی بھاری مقدار بھی قبضے میں لی ہے جو ہمارے لیے حیران کن ہے۔ تاہم وہ اس کی تحقیق کر رہے ہیں۔ اس کی رپورٹ چند دن میں سامنے آ جائے گی۔

خیال رہے کہ ایران مخالف تنظیم "مجاہدین خلق" کوسابق مصلوب عراقی صدر صدام حسین کے دورمیں عراق میں اپنی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ تنظیم مبینہ طورپر ایران میں دھماکوں میں بھی ملوث بتائی جاتی ہے۔ امریکا اور یورپ نے تنظیم کو دہشت گرد گروپوں میں شامل کیا تھا لیکن اب یہ پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔

حال ہی میں تنظیم کے اہم ترین مرکز" معسکر اشرف" پرخون ریز حملے اور ہلاکتوں کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اورامریکی وزیرخارجہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بغداد حکومت سے اس کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔