.

بحیرہ روم میں امریکا، اسرائیل کی میزائل مشق

شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا، اسرائیل کا گٹھ جوڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور اسرائیل نے شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریوں کے سلسلہ میں بحیرۂ روم میں میزائل چھوڑنے کی مشترکہ مشق کی ہے لیکن روس نے میزائل چلانے کا پتا چلا لیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بحیرۂ روم میں فوجی اڈوں اور اسرائیل کے وسط سے انکور طرز کے میزائل چھوڑے گئے تھے۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اور امریکا کی میزائل ڈیفنس ایجنسی (ایم ڈی اے) نے منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق سوا نو بجے مشترکہ طور پر انکور طرز کا راڈار میزائل چھوڑا ہے۔

میزائل کا یہ تجربہ بحیرہ روم میں کیا گیا ہے اور اس کی ہدایت کاری اسرائیل کے وسط میں واقع فوجی اڈے سے کی جارہی تھی۔ اسرائیلی وزارت کے بیان میں صرف ایک میزائل کا ذکر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب روس کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس کے پیشگی اطلاع دینے والے نظام نے بحیرہ روم کے وسط سے دو بیلسٹک میزائل چلانے کی اطلاع دی تھی اور یہ سمندر کے مشرقی ساحل کی جانب فائر کیے گئے تھے۔

تاہم اسرائیلی فوج نے بحیرہ روم میں کوئی میزائل چھوڑنے کے بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور شام میں روسی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ دمشق میں آج منگل کو کسی میزائل حملے یا دھماکے کے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں۔

روس کے جنوب میں واقع آرماویر کے مقام پر نصب پیشگی اطلاع نظام نے امریکا، اسرائیل کے اس میزائل تجربے کا پتا چلایا تھا۔ روسی وزیردفاع سرگئی شوئیگو نے صدر ولادی میر پوتین کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی ہے۔

شام کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ''شام کے ارلی وارننگ راڈار سسٹم نے ملک کی حدود میں کسی میزائل کے گرنے کا پتا نہیں چلایا ہے''۔ واضح رہے کہ امریکا نے شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنے پانچ طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی بحری جہاز بحیرہ روم میں گذشتہ ہفتے بھیج دیے تھے۔ شام کے خلاف ان جنگی طیاروں پر اسے بعض ممالک کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔