.

لیبیا: سابق انٹیلی جنس چیف کی بیٹی اغوا کر لی گئی

العنود جیل میں قید اپنے والد سے مل کر واپس جا رہی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے سابق انٹیلی جنس چیف عبداللہ السینوسی کی بیٹی کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ اغواء کی یہ واردات اس وقت ہوئی جب العنود لیبیا کے دارالحکومت کی جیل سے واپس اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہی تھیں۔ وہ جیل میں بند اپنے والد سے ملنے آئی تھیں۔

جیل کے سربراہ مراد ذکری نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سابق انٹیلی جنس چیف کی بیٹی العنود کو جیل سے جانے کے کچھ ہی دیر بعد اغواء کر لیا گیا۔ واضح رہے اس سے پہلے انود خود بھی دس ماہ تک جیل رہ چکی ہیں۔ العنود پر الزام کہ وہ ایک جعلی پاسپورٹ پر لیبیا میں داخل ہونے کی کوشش رہی تھیں، جس پر انہیں گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا گیا۔

اغواء کی واردات سے پہلے العنود جیل میں قید اپنے والد اور قذافی دور سابق انٹیلی جنس سے ملاقات کرنے آئیں تھیں کہ واپسی پر انہیں اٹھا لیا گیا۔ عبداللہ السینوسی 2011 کی خانہ جنگی کے دنوں میں پیش آنے والے جرائم کی وجہ سے جیل میں ہیں۔

آج کل بھی طاقتور مسل گروہ لیبیا میں سرگرم ہیں کہ قذافی کے بعد آنے والی حکومت قانون کی حکمرانی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ابتدائی طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ انود کو کسی گروہ کے افراد نے اغواء کیا ہے یا کسی حکومتی ادارے نے اٹھوا لیا ہے۔