.

مصری عدالت نے اخوان کے 11 کارکنان کو عمر قید کی سزا سنادی

سویز شہر میں مصری فوج پر حملے کے الزام میں قائم مقدمے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے گیارہ ارکان کو سویز شہر میں فوج کو نشانہ بنانے کے لیے تشدد کی سرگرمیوں کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت نے منگل کو اس مقدمے میں ماخوذ اخوان المسلمون کے پینتالیس اور ارکان کو قصوروار قرار دے کر پانچ، پانچ سال قید کی سزائیں سنائی ہیں لیکن آٹھ مدعاعلیہان کو الزامات سے بری کردیا ہے۔

اخوان کے ان اٹھاون کارکنان پر سویز میں 14 اگست کو فوج پر فائرنگ کرنے اور تشدد کے حربے آزمانے کے الزامات میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ سویز میں یہ واقعہ اسی روز دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے رابعہ العدویہ اسکوائر اور النہضہ اسکوائر میں احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کےلیے سکیورٹی فورسز کے خونیں کریک ڈاؤن کے ردعمل میں پیش آیا تھا۔

واضح رہے کہ اخوان المسلمون 1950ء کے عشرے کے بعد مصر میں ایک مرتبہ پھر کڑے امتحان سے گزر رہی ہے اور اس کی قیادت اور کارکنان کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ مصری سکیورٹی فورسز کی خونریز کارروائیوں میں اخوان کے ایک ہزار سے زیادہ کارکنان مارے جاچکے ہیں جبکہ جماعت نے ان کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ بتائی ہے اور آزاد ذرائع بھی مصری حکومت کی جانب سے ہلاکتوں کے جاری کردہ اعدادوشمار کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

اخوان کو بطور جماعت صرف مصر ہی میں مختلف پابندیوں اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں بھی اس کی آزاد علاقائی شاخوں کے وابستگان کے خلاف وہاں کی حکومتیں کارروائیاں کررہی ہیں اور اس اسلامی جماعت کے کارکنان کو قید وبند کے عمل سے گزارا جا رہا ہے۔