.

شام پر متوقع امریکی حملہ، حزب اللہ کے جنگجو ہائی الرٹ

یشتر جنگجو روپوش، موبائل فون بند کر لئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف امریکا کی قیادت میں فیصلہ کن حملے کے امکانات کے پیش نظر شامی صدر کی حامی لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے بھی اپنے جنگجو ہائی الرٹ کردیے ہیں۔ جنگی حکمت عملی کے تحت حزب اللہ کے بیشتر جنگجو روپوش ہیں اور ان سے ٹیلیفون پر بھی رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

لبنان کے جنوبی شہر صور کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ شہر اور اس کے مضافات میں حزب اللہ کی جانب سے ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور تنظیم کے اہم کارکن لوگوں سے رابطوں میں نہیں ہیں اور نہ ہی وہ علانیہ عام لوگوں سے کسی قسم کی گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ جنوبی شہر "صور" حزب اللہ کے حامیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں تنظیم کے ہزاروں جنگجو موجود ہیں۔ شہر کے عام باشندے بھی جنگجوؤں سے بخوبی واقف ہیں۔ عام حالات میں حزب اللہ کے جنگجو کمانڈروں اور ان کے مراکز میں شہریوں کو رسائی حاصل ہوتی ہے مگر حالت جنگ میں سیکیورٹی سخت کر دی جاتی ہے اور عام شہری تنظیم کے حساس مراکزمیں نہیں جا سکتے ہیں۔ اس وقت بھی ایسی ہی کیفیت ہے۔ جنگجوؤں نے اپنے موبائل فون تک بند کردیے ہیں۔

ادھر لبنان کے مشرق میں حزب اللہ کے دوسرے بڑ ٹھکانے 'وادی بقاع' میں بھی تنظیم کی جانب سے ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔ یہاں پر بھی کارکن غائب ہیں بالخصوص حزب اللہ کی راکٹ یونٹوں سے وابستہ جنگجوؤں نے اپنے موبائل فون بند کردیے ہیں تا کہ ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی نہ کی جا سکے۔

ملک کے جنوب مغرب میں حزب اللہ کے مراکز کےآس پاس سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ سیکیورٹی پرمامور بڑی عمر کے سیکیورٹی گارڈ ہٹا کر ان کی جگہ پندرہ سال کے نوعمر لڑکے متعین کیے گئے ہیں جو گاڑیوں اور پیدل چلنے والے رہ گیروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔ سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کے سے متعلق فرانسیسی خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" کے نامہ نگار نے تنظیم سے رابطہ کیا تو اسے کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا۔