.

القاعدہ نے"اینٹی ڈرون سیل" قائم کر دیا: خفیہ امریکی دستاویز

ایک دہائی میں کم ازکم 3000 افراد ڈرون حملوں کی نذر ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ نے امریکی ڈرون کے کارگر حربی طریقے کا توڑ کرنے لیے اینٹی ڈرون سیل قائم کر دیا ہے۔ یہ انکشا ف خفیہ امریکی دستاویزات کے حولے میڈیا رپورٹس میں کیا گیا ہے۔

امریکی خفیہ دستاویزات کے مطابق القاعدہ کےاعلیٰ عہدیداران اب ڈرون جہازوں کے خلاف اپنی قوت بڑھانے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مختلف انجینئرز کے گروہ بنا کر انہیں ڈرون کو پرواز کے دوران مار گرانے، ان کی مشینری کو جام کر دینے یا انکو فضا سے ہی ہائی جیک کر کے اپنی مرضی کی منزل پر بھیج سکنے کی تربیت دے رہے ہیں۔

عسکریت پسند تنظیم کی اعلیٰ کمان اب اس جدید اسلحے کی ٹیکنالوجی کا توڑ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے القاعدہ کو حالیہ برسوں کے دوران بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

رپورٹ میں خفیہ دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ "تا حال القاعدہ کے کسی کامیاب اینٹی ڈرون آپریشن کی کامیابی کی خبر نہیں آئی، تاہم امریکی انٹیلیجنس حکام نے 2010ء سے ہی القاعدہ کی ڈرون مخالف ٹیکنالوجی بنانے کی کوششوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔"

رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے کمانڈروں کی امریکی ڈرون ٹیکنالوجی کے توڑ کی تلاش کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ اسکی وجہ سے ایک دھائی میں کم ازکم 3000 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ڈرون حملے ہی ہیں جنکی وجہ سے پاکستان ، افغانستان ، یمن اور صومالیہ میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں کمزوری پیدا کی ہے.