.

شام کا جوابی حملے کا اعلان، تیسری عالمی جنگ کا انتباہ

کوئی بھی شامی اپنے ملک کی آزادی کو قربان نہیں کر سکتا: فیصل مقداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے امریکا کے حملے کی صورت میں اسد رجیم کی تیاریاں مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ شامی حکومت اپنا موقف تبدیل نہیں کرے گی،اگر تیسری عالمی جنگ چھڑتی ہے تو چھڑجائے۔

انھوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ شامی حکومت ممکنہ فوجی مداخلت کو روکے گی کیونکہ کوئی بھی شامی اپنے ملک کی آزادی کو قربان نہیں کرسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام نے کسی بھی جارحیت کا بدلہ چکانے کے لیے ہر اقدام کر لیا ہے۔تاہم انھوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے کہ ان کے اس بیان اور جوابی جنگی تیاریوں سے کیا مراد ہے۔فیصل مقداد کا کہنا تھا کہ شامی رجیم ممکنہ حملے سے قبل اپنے اتحادیوں کو متحرک کرے گا۔

درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے شام کے خلاف اعلان جنگ کے بعد آج بدھ کو تردد کا شکار اراکین کانگریس کو کھلا چیلنج کیا ہے کہ وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ان کے منصوبے کی منظوری دیں دوسری صورت میں وہ امریکا کی بین الاقوامی آن بان کے علاوہ اپنی اعتباریت کو داؤ پر لگانے کا موجب بنیں گے۔

سویڈن کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عالمی برادری 21 اگست کو شام میں بربریت کے بعد خاموش تماشائی بنی نہیں رہ سکتی۔

انھوں نے کہا کہ ''اس وقت میری ساکھ داؤ پر نہیں لگی ہوئی ہے بلکہ یہ عالمی برادری ہے جس کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ امریکا اور کانگریس کی اعتباریت بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے''۔

انھوں نے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جمعرات کو ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل اس امید کا اظہار کیا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین اب اپنے اتحادی بشارالاسد کی حمایت ترک کردیں گے۔

امریکی صدر کے اس بیان سے چندے قبل ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر شام کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی غیر قانونی ہوگی۔انھوں نے امریکا کا یہ دعویِٰ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔