.

مرسی برطرفی پر امریکی ردعمل، خارجہ پالیسی پر نظرثاںی ہو گی

قطر کے بارے برداشت تقریبا ختم، ترکی مداخلت نہ کرے: عدلی منصور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں فوج کے ہاتھوں منتخب صدر کی برطرفی کے بعد امریکا اور مغربی ممالک کے'' غیر متوقع '' ردعمل کے باعث عبوری حکومت خارجہ پالیسی کا نئے سرے سے تزویراتی جائزہ لے گی۔ یہ بات جنرل عبدالفتاح السیسی کی طرف سے مقرر کیے گئے عبوری صدرعدلی منصور نے اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں کہی ہے۔

عدلی منصور کا کہنا تھا '' مغربی ممالک نے مرسی کی برطرفی کے معاملے پر اپنا موقف بہتر کیا ہے، تاہم ابھی امریکا کو اپنی پوزیشن واضح کرنا ہو گی۔

قطر کی طرف سے منتخب صدر کی برطرفی کی مخالفت کے بارے میں عدلی منصور نے کہا '' قطر کے بارے میں ہماری برداشت تقریبا جواب دے چکی ہے ۔ البتہ ''جہاں تک ترکی کا تعلق ہے ہم اس کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہو گا کہ ترکی مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا چھوڑ دے۔''

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے کہا ''مصر فلسطین کے بارے میں اپنے موقف میں تبدیلی نہیں لا رہا ، اسی طرح ہم اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر بھی قائم ہیں۔''

عبوری صدر نے فوج کے ہاتھوں مرسی کی برطرفی کا پوری طرح دفاع کیا اور کہا '' مرسی اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گئے تھے اس لیے انہیں عوامی خواہش کے مطابق ہٹایا گیا ہے۔ ''

عبوری حکومت کی طرف سے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے عبوری صدر نے کہا'' جمہوری حکمرانی کی طرف واپس آنا، امن و امان بحال کرنا اور معیشت کی بحالی ان کی حکومی ترجیحات ہیں۔''