.

مصر، قطر کا 2 ارب ڈالرز کا قرض فوری لوٹانے کو تیار

دونوں ممالک میں رقم کو تین سالہ بانڈزمیں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر قطر کے ساتھ دو ارب ڈالرز کے قرضے کو بانڈز میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔ مصر کے مرکزی بنک کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات چیت کامیاب نہیں رہتی ہے تو قطر کی قرضے کی یہ رقم فوری طور پر لوٹا دی جائے گی۔

اس عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''قرضے کی اس رقم کو تین سالہ بانڈز میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات چل رہے ہیں اور ابھی یہ ختم نہیں ہوئے ہیں۔ اگرایسا نہیں ہوتا تو ہم قرضے کی رقم کو واپس کر دیں گے اور اس کے لیے ہم تیار ہیں''۔

مصر کے سرکاری روزنامے الاہرام کی ایک رپورٹ کے مطابق قطری حکومت نے قرض کی رقم کو بانڈز میں تبدیل کرنے کے لیے تاخیرکرنے کا کہا ہے۔ تاہم مرکزی بنک کے عہدے دار کا کہنا ہے کہ قطریوں کے ساتھ اس وقت دو ارب ڈالرز کی رقم کو تین سالہ بانڈز میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت چل رہی ہے اور یہ آیندہ ہفتے بھی جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی کو منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے مصر اور قطر کے تعلقات میں رخنہ آیا ہے۔

قطر واحد خلیجی ملک ہے جو مصر کی سب سے منظم جماعت اخوان المسلمون کا بڑا مؤید اور حامی رہا ہے اور اس نے ڈاکٹر محمد مرسی کی ایک سالہ حکومت کے دوران مصر کو ساڑھے سات ارب ڈالرز کی رقم قرض اور امداد کی شکل میں دی تھی۔

مئی میں مصر نے قطر سے ملنے والے اڑھائی ارب ڈالرز کے قرضے کو چار اعشاریہ پچیس فی صد شرح سود پر اٹھارہ ماہ کے بانڈز میں تبدیل کردیا تھا۔ یکم جولائی کو اس نے مزید ایک ارب ڈالرز ساڑھے تین فی صد شرح سود پر تین سال کے بانڈز میں تبدیل کیا تھا۔ ان بانڈز کا آئرش اسٹاک ایکسچینج میں اندراج کرایا گیا تھا۔