.

'دیوارگریہ' کے ساتھ اسٹیج کی تعمیر پر اُردن کا اسرائیل سے احتجاج

"عالمی برادری اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات کا نوٹس لے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد اقصیٰ سے متصل تاریخی دیوار براق [دیوار گریہ] کے ساتھ ایک اسٹیج بنانے پر اردن نے اسرائیل کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ عمان نے قبلہ اول کے خلاف صہیونی سازشوں بالخصوص توسیع پسندانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے ان کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

اُردنی وزارت خارجہ کے ایک سینیئرعہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرفرانسیسی خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" کو بتایا کہ عمان میں متعین اسرائیل کے قائم مقام سفیرکو دفتر خارجہ طلب کرکے ایک احتجاجی یادداشت ان کے حوالے کی گئی جس میں "دیوار گریہ" کے ساتھ اسٹیج بنانے کے اسرائیلی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قائم مقام اسرائیلی سفیرحائیم اسرف نے وزارت خارجہ میں خود جا کراحتجاجی یادداشت وصول کی اور"دیوار گریہ اسٹیج" کے حوالے سے عمان حکومت کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

احتجاجی میمورنڈم میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قدیم بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ سے متصل "دیوار گریہ" میں اسٹیج تعمیر کرنے کا عمل فوری طور پرروک دے کیونکہ اس مقام پر اسٹیج لگانا غیراخلاقی حرکت اورعالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اسرائیل متنازعہ مقامات پر یک طرفہ توسیع پسندانہ اقدامات کرکے معاملات کو مزید الجھا رہا ہے۔ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ تاریخی، تہذیبی اور مذہبی پہلوؤں سے صرف مسلمانوں کی ملکیت اور اسلامی تہذیب وثقافت کا حصہ ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے یہودیوں کے لیے یہاں پرکوئی بھی اقدام قابل قبول نہیں ہو گا۔

عمان حکومت نے اسرائیلی قائم مقام سفیر کو بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے خلاف اسرائیل کے تمام جارحانہ اور توسیع پسندانہ اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے مسلمانوں کا یہ مقدس مقام خطرے میں پڑسکتا ہے۔ قبلہ اول کو کسی قسم کا بھی نقصان پہنچا توعالم اسلام میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوگا۔ لہٰذا اسرائیل ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جس پرعالم اسلام میں اشتعال پیدا ہو۔

ادھراردن حکومت کے ترجمان اور وزیر برائے اطلاعات و مواصلات محمد المومنی نے بھی "دیوار گریہ" کے ساتھ اسٹیج بنانے کی کوششوں پر اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر المومنی کا کہنا تھا کہ "دیوار گریہ" کے قریب اسٹیج بنانا اسلام کے تاریخی اورمقدس مقام پربدترین حملہ ہے۔ مسلمان مسجد اقصٰی ہی کی طرح دیوار براق کو بھی مقدس مقام سجھتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں ہوگی کہ اسرائیل اپنی زیادتیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ان کے مقدس مقامات پر دست درازی کرے"۔

اردنی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسرائیل دیوار براق کے ساتھ اسٹیج قائم کرکے مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کی راہ داری سے یہودیوں کی قبلہ اول تک رسائی کو آسان بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ عرب علاقوں بالخصوص مسجد اقصٰی اور بیت المقدس کے حوالے سے اسرائیل کو اپنی قراردادوں کا پابند بنائے۔