آخری لمحے تک بشارالاسد کی مدد جاری رکھیں گے: ایران

ایرانی اثرو رسوخ کے باعث امریکا شام میں ناکام رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرون ملک سرگرم "قدس بریگیڈ" کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک شامی صدر بشارالاسد کی آخری لمحے تک مدد جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں ایرانی اثر و نفوذ کے باعث امریکا آج تک اپنے اہداف اور مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

ایران کی نیم خبر رساں ایجنسی"فارس" کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی تہران میں گارڈین کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شام مزاحمت کی "فرنٹ لائن" پر واقع ہے۔ اس لیے ایران اس کی مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ ایران شام کی مدد نہیں کررہا ہے بلکہ عالم اسلام کے دفاعی طاقت کو بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

مسٹر سلیمانی کا کہنا تھا کہ "ہمیں شام کی مدد کا الزام دینے والے دشمنوں کے پروپیگنڈے کی ذرا پرواہ نہیں ہے۔ ہم دمشق کی اس لیے سپورٹ کر رہے ہیں کیونکہ وہ مزاحمت کی فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔ اس حقیقت سےکوئی انکار نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے کیونکہ اس وقت شام کے مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں"۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شام میں بغاوت کی تحریک سات ملکوں قطر، ترکی، سعودی عرب، فرانس، برطانیہ، امریکا اور اسرائیل کی پیدا کردہ ہے اور یہی ملک شام کی دفاعی حیثیت کو تباہ کرنے کے لیے بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جنرل سلیمانی نے کہا کہ شام میں ایران کے گہرے اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکا اوراس کے اتحادی اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ تہران کا دمشق میں اثرو نفوذ مزید بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جاری بغاوت کی تحریک میں 95 فی صد بیرونی جنگجو لڑ رہے ہیں۔ صرف پانچ فی صد فوج کے بگھوڑے اور سلفی جہادی باغیوں کے ساتھ ہیں۔ امریکا نے بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے ک ےلیے پہلے سیاسی داؤپیچ استعمال کیے تو ناکام رہا، پھر بغاوت برپا کر کے القاعدہ کے ذریعے انہیں ہٹانے کی کوشش کی لیکن پھر بھی ناکام ہوا اور اب کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا شوشہ چھوڑ کر آخری حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں