امریکی سینیٹ کمیٹی نے شام کیخلاف محدود کارروائی کی اجازت دیدی

آئندہ ہفتے سینیٹ میں بحث ، ارکان ابھی تک تشکیک کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے اوباما انتظامیہ کو شام کے خلاف محدود جنگی کارروائی کا اختیار دینے سے متعلق قرار داد کی منظوری دیدی ہے۔ اب امکانی طور پر اگلے ہفتے سینیٹ کے با ضابطہ اجلاس میں اس قرارداد پر بحث ہو گی اور بعد ازاں منظوری کی صورت شام پر حملے کی راہ ہموار ہو گی۔

تاہم ابھی کانگریس کے بہت سے ارکان شام پر حملے کے لیے ووٹ دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ان ارکان کے خیال میں امریکا شام پر حملہ کر کے ایک اور لمبی جنگ میں پھنس جائے گا، جس سے خطے میں تشدد کو فروغ ملے گا اور امریکی معیشت پر بوجھ بڑھے گا۔

اسی خدشے کے پیش نظر سینیٹ کمیٹی کی منظور کردہ قرارداد میں بھی اوباما انتظامیہ کو شام کے خلاف محدود فوجی آپریشن کی اجازت دی گئی ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ کارروائی نوے دن سے طویل نہیں ہو گی، نہ ہی امریکی فوجی زمین پر اتریں گے۔

صدر اوباما نے شام پر حملے کے حوالے سے مختلف خدشات رکھنے والے امریکی قانون سازوں کو ایک چیلنج کے انداز میں کہہ رکھا ہے کہ اگر حملے کی منظوری نہ دی گئی تو امریکا کو بین الاقوامی سطح پر سخت دھچکہ پہنچے گا اور ان کی اپنی ساکھ بھی خطرے میں ہو گی۔

دریں اثنا سویڈن کے دورے کے دوران صدر اوباما نے نے شام کے خلاف حملے کے حوالے سے اپنا کیس انہی بنیادوں پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک محدود کارروائی کرنا چاہتے ہیں، کہ عالمی برادری 21 اگست کے سانحے کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتی ہے۔

اس ماحول میں امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے اس امر منظوری دی ہے کہ شام کے خلاف محدود کارروائی کر لی جائے۔ ووٹنگ کے دوران بھی ارکان جنگی کارروائی کے خلاف اور سفارت کاری سے مسئلہ حل کرنے کے حق میں کتبے اٹھائَے ہوئے دیکھے گئے۔ جبکہ ماحول پر غیر معمولی سنجیدگی طاری تھی۔

کمیٹی کے ارکان کے درمیان سمجھوتہ ممکن بنانے کے لیے کمیٹی کے چئیرمین اور ری پبلکن سینیٹر باب کورکر نے مشترکہ طور پر قرار داد کا مسودہ تیار کیا۔ کمیٹی نے ری پبلکن سینیٹر جان مکین کی طرف سے پیش کردہ ترامیم کو بھی قبول کیا۔

یہ اکتوبر دو ہزار دو کے بعد پہلا موقع ہے کہ سیاستدانوں اور کانگریس کی سطح پر ایک فوجی کارروائی کی منظوری دی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے جارج ڈبلیو بش نے عراق پر حملے کے لیے کانگریس سے منظوری لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں