شام: مسیحیوں کے گاؤں کے نزدیک باغیوں اور سرکاری فوج میں جھڑپیں

النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کا عیسائیوں کے گاؤں میں آمد کے بعد انخلاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام مِیں مسیحی آبادی کے ایک گاؤں کے نزدیک القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے جنگجوؤں اور سرکاری فوجیوں کے درمیان جمعرات کو دوسرے روز بھی جھڑپیں جاری ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ سے تعلق رکھنے والے جنگجو بدھ کی رات مسیحیوں کے گاؤں معلولہ میں داخل ہوئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ شام کے مغربی علاقے میں واقع اس گاؤں میں فوج کی بھاری نفری موجود تھی لیکن اس کے باوجود باغی جنگجو پیدل اور گاڑیوں پر گاؤں کی گلیوں میں گشت کررہے تھے اور انھوں نے تھوڑی دیر کے لیے ایک مسجد اور گرجا گھر کا بھی محاصرہ کرلیا تھا.

باغی جنگجو جمعرات کی صبح معلولہ سے نکل گئے تھے لیکن اس کے بعد صدر بشارالاسد کے وفادار فوجیوں اور النصرۃ محاذ سے واابستہ ان جنگجوؤں کے درمیان قریب واقع پہاڑیوں پر لڑائی چھڑگئی جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں