مصری وزیرِ داخلہ کے قافلے پر کار بم حملہ

کسی گروپ نے فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے عبوری وزیرِ داخلہ محمد ابراہیم کے قافلے کو قاہرہ کے علاقے نصر سٹی میں اس وقت بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ معمول کے مطابق اپنے دفتر جا رہے تھے۔ عالمی خبررساں ادارے کے مطابق حملے کے نتیجے میں چار افراد ساتھی زخمی ہو گئے ہیں جبکہ وہ خود مکمل طور پر محفوظ رہے ہیں۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے دو حملہ آوروں کو وزیرِداخلہ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیا ہے۔ واقعے کی جگہ پر موجود العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے دھماکے کی آواز سنی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی خبروں سے یہ واضع نہیں ہو پا رہا تھا کہ آیا یہ کار بم حملہ خودکش طرز کا تھا یا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا دھماکہ تھا، تاہم یہ واضع ہے کہ حملہ آوروں کا اصل حدف وزیرِ داخلہ ہی تھے۔ اگرچہ ابھی تک کسی بھی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

قاہرہ کے مضافات میں واقع نصر شہر معزول صدر محمد مرسی کی حامی اخوان المسلمون کا اہم گڑھ ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں 14 اگست کو مرسی کے حامیوں کے دھرنے پر پولیس کی کارروائی کے دوران سینکڑوں مظاہرین مارے گئے تھے۔

وزیر داخلہ پر یہ مبینہ حملہ وزارت داخلہ کے اس اعلان کے بعد پیش آیا ہے، جس میں اخوانی مظاہرین کا آہنی کریک ڈاون کے ذریعے دھرنا اکھاڑنے پر سکیورٹی فورسز کے لیے 35 ملین ڈالر کے خصوصی بونس کا اعلان کیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں