شام کے منحرف سابق وزیردفاع استنبول پہنچ گئے

سابق جنرل علی حبیب کی مغربی انٹیلی جنس ایجنٹوں کی مدد سے شام سے فرار کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے سابق وزیر دفاع علی حبیب صدر بشارالاسد کی جبری حراست سے آزاد ہونے کے بعد ترکی کے شہر استنبول پہنچ گئے ہیں۔

شامی حزب اختلاف کے ایک ذریعے نے بدھ کو ان کے منحرف ہونے اور ترکی کے سرحدی علاقے میں پہنچنے کی اطلاع دی تھی لیکن شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اس اطلاع کی تردید کی تھی۔ البتہ سرکاری ٹی وی نے ایک ہی مرتبہ تردیدی خبر نشر کی تھی اور دوبارہ اس کو نشر نہیں کیا۔

علی حبیب کو شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے پرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مخالفت کی پاداش میں ان کے گھر پر نظربند کررکھا تھا اور اس کے باہر کڑا پہرا تھا لیکن وہ مغربی ایجنٹوں کی مدد سے وہاں سے بھاگ کر ترکی پہنچ جانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

شامی حزب اختلاف کے پیرس میں مقیم ایک سرکردہ رہ نما کمال ال لبوانی نے گذشتہ روز ان کے ترکی پہنچنے کی اطلاع دی تھی اور آج انھوں نے کہا ہے کہ علی حبیب مغربی انٹیلی جنس ایجنٹوں کی مدد سے شام سے گئے اس لیے سکیورٹی اہلکاروں سے ان کے اتا پتا کے بارے میں کسی بیان کی توقع نہ کی جائے''۔ ترک حکومت نے ابھی تک ان کے استنبول پہنچنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں شامی فوج کے سنی افسر منحرف ہوتے رہے ہیں اور شامی صدر کے علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے فوجی افسر بہت کم منحرف ہوئے ہیں لیکنن یہ پہلا موقع ہے کہ شام کے کسی اعلیٰ سابق فوجی عہدے دار نے بشارالاسد کا ساتھ چھوڑا ہے اور ان کا تعلق بھی علوی فرقے سے ہے۔

کمال لبوانی کا کہنا ہے کہ''علی حبیب شام میں جاری جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ امریکی اور ایک حد تک روسی بھی بعداز اسد انھیں کردار کے لیے تیار کررہے ہیں۔ ان میں سے ایک امکان یہ ہے کہ وہ سرکاری سکیورٹی فورسز کا کنٹرول سنبھال لیں اور پھر باغیوں کے ساتھ عبوری نظم ونسق کے قیام کے لیے مذاکرات کریں''۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس روڈ میپ کے حق میں ہیں اور اس کے لیے علی حبیب بالکل معقول آدمی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں