ایران: جوہری تنازع پر مذاکرات کا اختیار وزارت خارجہ کو تفویض

وزارت خارجہ سیکیورٹی کونسل کو مشاورت میں شامل رکھے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جوہری تنازعہ پر عالمی طاقتوں سے مذاکرات کا اختیار نیشنل سیکیورٹی کونسل سے واپس لیتے ہوئے وزارت خارجہ کو تفویض کر دیا ہے۔ آئندہ اس حوالے سے کسی قسم کے مذاکرات وزارت خارجہ ہی کی نگرانی میں ہوں گے تاہم خارجہ کمیٹی نیشنل سیکیورٹی کونسل کو مشاورت میں شامل رکھے گی۔

سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دوسرے دور حکومت میں سعید جلیلی کو نیشنل سیکیورٹی کونسل کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔ آج تک مسٹر جلیلی ہی کی سربراہی میں عالمی طاقتوں سے بات چیت ہوتی رہی ہے۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان مرضیہ افخم نے صدر کی جانب سے جوہری تنازع پر مذاکرات کا اختیار وزارت خارجہ کو سونپے جانے کی تصدیق کی ہے۔ مسزمرضیہ کا کہنا ہے کہ عالمی برادری سے ہونے والی کسی بھی بات چیت میں وہ سیکیورٹی کونسل کو مکمل نظرانداز نہیں کریں گے بلکہ کونسل کو صلاح مشورے میں شامل رکھا جائے گا۔

خیال رہے کہ موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی خود بھی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ ان کی نگرانی میں بھی متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی طاقتوں سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ حسن روحانی کے بعد علی لاریجانی کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا اور آخر میں سعید جلیلی اس عہدے پر فائز ہوئے تھے اور وہی ابھی تک منصب پرتعینات ہیں۔

اصلاح پسند سمجھے جانے والے صدر حسن روحانی نے رواں سال کے آغاز میں اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی جوہری تنازعہ کے مثبت حل کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں اپنے پیش رو محمود احمدی نژاد کی جوہری پروگرام کے حوالے سے پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے تباہ کن قرار دیا تھا۔

ایران پچھلے چند برسوں میں جہاں ایک طرف عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرتا رہا ہے وہیں امریکا، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی پر مشتمل "گروپ چھ" کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار کرچکا ہے، تاہم ان مذاکرات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں